امریکی ٹاسک فورس: طالبان کو پکڑنا یا ہلاک کرنا ہے

امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کے اخبارات نیو یارک ٹائمز، دی گارڈیئن اور در شپیگل کے مطابق انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات جاری کرنے والے ویب سائٹس وکی لیکس افغانستان میں امریکی فوج کی نوے ہزار سے زائد خفیہ معلومات منظرِ عام پر لائی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ امریکی فوج کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں خفیہ معلومات منظرعام پر آئی ہیں۔

جرمن اخبار در شپیگل نے ان دستاویزات کے اہم نکات شائع کیے ہیں جو مندرجہ ڈیل ہیں۔

ٹاسک فورس تین سو تہتر، خفیہ شکاری

ٹاسک فورس تین سو تہتر کے ممبران براہ راست امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) سے احکامات لیتے ہیں اور افغانستان میں انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کی کمانڈ کے تحت کام نہیں کرتے۔

ٹاسک فورس تین سو تہتر کا مشن اعلٰی سطح کے طالبان اور دہشت گردوں کو پکڑنا یا ہلاک کرنا ہے۔

کئی برسوں تک اس فورس کی تعیناتی کی تفصیلات کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن اتوار کو جنگی میموز اور لاگز یعنی یادداشتوں اور روزنامچوں کے افشا ہونے کے بعد اس فورس کا کام اب ایک کھلا راز بن گیا ہے۔

ان روزنامچوں میں ٹاسک فورس تین سو تہتر کی ہر رات کے آپریشن کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حالات کس بری طرح سے خراب ہو سکتے ہیں۔

ان دستاویزات میں سترہ جون دو ہزار سات کی ایک رپورٹ کا بھی ذکر ہے جس میں ایک جگہ پر خبردار کیا گیا ہے کہ ٹاسک فورس تین سو تہتر کے اس آپریشن کو ہر حال میں خفیہ رکھا جائے اور ایساف میں شامل دوسرے ممالک کو اس کا پتہ نہ چلے۔

اس آپریشن کا مقصد القاعدہ رہنما ابوالیث اللبی کو ہلاک کرنا تھا۔ ان کے بارے میں اطلاع تھی کہ وہ اور ان کے کئی ساتھی ایک مدرسے میں چھپے ہیں۔ اس مدرسے پر پانچ راکٹ داغے گئے لیکن جب امریکی فوجی وہاں پہنچے تو انہیں وہاں صرف چھ بچوں کی لاشیں ملیں۔

جرمن فوجی

ان دستاویزات میں جرمن فوجیوں کے بارے میں اس طرح کی کوئی معلومات نہیں کہ وہ عام شہریوں کے خلاف کسی طرح کے تشدد میں ملوث رہے ہوں یا کسی طرح کے غیر قانونی اور خفیہ آپریشن کا حصہ رہے ہوں۔ تاہم یہ دستاویزات جرمن فوجیوں کی جو تصویر کشی کرتے ہیں اس کے مطابق وہ سادگی اور بدھو پن سے اس جنگ میں شریک ہیں۔

جرمن یہ سوچتے ہیں کہ افغانستان کے شمالی صوبوں میں جہاں ان کے فوجی تعینات ہیں صورت حال دوسرے صوبوں کے مقابلے میں پر امن ہے اور یہ صورت حال اسی طرح رہے گی۔

تاہم وہ غلط سوچ رہے تھے۔ دو ہزار پانچ کے اواخر میں بین الاقوامی فوج کے خلاف مزاحمت میں تیزی آنے لگی۔ مقامی افراد کو یا تو طالبان اور جنگی سرداروں نے ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ شامل کر لیا یا انہیں خرید لیا گیا۔

اپنی تعیناتی کے شروع کے دنوں میں جرمن فوجی مذاق کے طور پر قندوز کو بیڈ قندوز کہتے تھے۔ جرمن زبان کا لفظ بیڈ اس جنگ میں سرکاری طور پر ایسے علاقوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو نسبتاً پر امن ہیں۔ تاہم قندوز میں اب کافی عرصے سے حالات اچھے نہیں رہے۔

انیس جون دو ہزار سات کو ایک خود کش حملے میں تین جرمن فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ ایک مقامی بازار میں ریفریجیریٹر خریدنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ واقعہ جس میں افغان شہری بھی ہلاک ہوئے جرمن فوجیوں کے خلاف پہلا بڑا حملہ تھا۔

یہ دستاویزات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ شمالی افغانستان ایک نئی خانہ جنگی کے کتنے قریب پہنچ چکا ہے اور جرمن فوج نے وہاں اپنی تعیناتی کے دوران کتنی کم کامیابی حاصل کی ہے۔

خاموش قاتل کی غلطیاں

ان دستاویزات میں مشرقی افغانستان کی ایک رپورٹ کا بھی ذکر ہے جو ایک معمول کی رپورٹ کے انداز میں شروع ہوتی ہے کہ سترہ اکتوبر دو ہزار نو کو تقریباً ایک بجے افغان نیشنل آرمی کو انٹیلیجنس ذرائع سے اطلاع ملی کہ بیس کے قریب مزاحمت کار اپنے ٹھکانے سے جنوب کی جانب جا رہے ہیں۔ جن کے پیچھے ایک ڈرون روانہ کیا گیا لیکن کچھ دیر کے بعد اس میں کچھ مسائل پیدا ہو گئے۔ یو ٹرن لینے کے دوران وہ ڈرون تیزی سے نیچے کی جانب آیا اور زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد صورت حال دشوار ہوتی گئی۔ تباہ شدہ ڈرون کو حاصل کرنے کے لیے افغان فوج کے ایک دستے کو روانہ کیا گیا جس نے کچھ دیر کے بعد اس علاقے میں گشت سے انکار کر دیا۔ بعد میں وہ تباہ شدہ ڈرون کی تلاش میں روانہ تو ہوئے لیکن جب یہ اطلاع ملی کے وہاں مزاحمت کار چھپے ہوئے ہیں تا کہ ڈرون کی تلاش میں آنے والے فوجیوں پر حملہ کر سکیں تو افغان فوجیوں کو واپس آنا پڑا۔

پاکستان میں خفیہ دشمن

پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) نے سوویت یونین کی فوجوں کے افغانستان سے جانے کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران طالبان کو بنانے اور پھر اقتدار میں لانے کے سلسلے میں مدد کی۔

پاکستان کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود کہ اب طالبان کے ساتھ اس کے پرانے روابط ختم ہو چکے ہیں، دستاویزات کے مطابق، پاکستان اب بھی خطے میں ایک مبہم پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت وہ ایک طرف تو امریکہ کا اتحادی بھی ہے لیکن دوسری جانب اس کے دشمنوں کی مدد بھی کر رہا ہے۔

اس بارے میں کافی نئے شواہد بھی ہیں۔ دستاویزات واضح طور پر یہ دیکھاتی ہیں کہ افغانستان کے باہر آئی ایس آئی طالبان کی سب بڑی حلیف ہے۔ افغان سکیورٹی فورسز، امریکی فوج اور ایساف کے خلاف جنگ پاکستان سے لڑی جا رہی ہے۔

افشا ہونے والے جنگی روزنامچوں کے مطابق آئی ایس آئی کے لوگ شدت پسند کمانڈروں کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں اور یہاں تک کہ مخصوص لوگوں کو قتل کرنے کے لیے احکامات بھی دیتے ہیں جن میں افغان صدر حامد کرزئی کو قتل کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔

ان دستاویزات میں جو دستاویزات آئی ایس آئی کے بارے میں ہیں ان میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا اہم کردار بتایا گیا ہے۔ سبکدوش ہونے کے بعد مغربی میڈیا میں ان کا ذکر طالبان کی حمایت میں پروپگینڈہ کرنے والے کی حیثیت سے سامنے آیا۔

دستاویزات میں حمید گل کو طالبان کے لیے مدد کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ایک رپورٹ میں انھوں نے مزاحمت کاروں کا رہنما کہا گیا ہے۔

جب کہ چودہ جنوری دو ہزار آٹھ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں نے کابل جلال آباد ہائی وے پر اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے منظم اغوا میں رابطہ کار کی حیثیت سے حصہ لیا۔

ان جنگی روزنامچوں میں کہا گیا ہے کہ حمید گل نے کئی خود کش حملوں کے احکامات دیے اور وہ طالبان کو اسلحہ فراہم کرنے والے اہم ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔

دستاویزات میں اسلحے سے لدے پینسٹھ ٹرکوں کے ایک قافلے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کا انتظام جنرل حمید گل نے کیا تھا۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی نے حقانی گروپ کو ایک ہزار موٹر سائیکلیں فراہم کیں۔ اس کے علاوہ کلاشنکوف، مارٹر اور اسٹریلا راکٹوں سمیت سات ہزار کی تعداد میں مختلف طرح کا اسلحہ کنڑ صوبے میں طالبان کو فراہم کیا گیا۔

تاہم ان دستاویزات کو جن لوگوں نے لکھا ہے وہ بھی ان کی سچائی کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔ یہ بے یقینی ان دستاویزات میں کئی جگہ نظر آتی ہے اور یہ اطلاعات کی ترسیل کی امریکی پالیسی کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔