نقصانات کے ازالے کے لیے بتیس ارب ڈالر

برٹش پیٹرولیم کمپنی نے خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ کے ضمن میں نقصانات کے ازالے کے لیے بتیس بلین ڈالر مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے اخراج کی مرمت اور دوسرے واجبات کے لیے بیس ارب ڈالر رکھےگئے تھے جن میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

تاہم بی بی سی کے تجارتی امور کے مدیر رابرٹ پیسٹن سے بات کرتے ہوئے بی پی کے چیئرمین سیون برگ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اخراجات اس رقم سے بھی تجاوز کرسکتے ہیں۔

کمپنی نے یہ بھی بتایا ہے کہ تیل کے اخراج سے کمپنی کو تین ماہ میں سترہ بلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

کمپنی ا نتظامیہ نے تصدیق کردی ہے کہ چیف ایگزیکٹو ٹونی ہیورڈ اکتوبر میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے ان کی جگہ باب ڈیڈلی جو اس وقت خلیج میں تیل کے رساؤ کے روک تھام کے امور کی نگرانی کررہے ہیں کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو ہوں گے۔

تاہم مسٹر ہیورڈ کمپنی میں رہیں گے اور انھیں روس کے ساتھ مشترکہ منصوبے میں اہم کردار سونپا جارہا ہے۔

کمپنی ا نتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ اٹھارہ ماہ میں کمپنی کے تیس ارب تک کے اثاثے فروخت کر دیے جائیں گے۔

اس میں سے سات ارب کے اثاثے پہلے ہی فروخت ہوچکے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان میں اثاثہ جات فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کمپنی نے اپنے فیصلے سے تمام ملازمین اور حکومت کو مطلع کردیا ہے۔

Image caption چیف ایگزیکٹیو ٹونی ہیورڈ اکتوبر میں سبکدوش ہوجائیں گے

سرمایہ کاروں نے اس واضح پالیسی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ کمپنی داغدار تشخص کو صاف ستھرا بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

کمپنی کے سبکدوش ہونے والے ترپن سالہ چیف ایگزیکٹیو مسٹر ہیورڈ پچپن برس کی عمر میں چھ لاکھ پاؤنڈ سالانہ پینشن حاصل کرسکیں گے۔

مسٹر ہیورڈ کا کہنا ہے کہ اب جبکہ کنویں سے تیل رسنا بند ہوگیا ہے اس لیے کمپنی کو چھوڑنے اور اس کی تنظیم نو کا یہ ایک مناسب موقع ہے۔

واضح رہے کہ خلیج میکسیکو میں سمندر کی تہہ میں تیل کی تلاش کے دوران بیس اپریل کو ایک دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک کنویں سے تیل کا رساؤ شروع ہوگیا تھا۔

برٹش پیٹرولیم کمپنی کو خلیج میکسیکو میں تیل کے رساؤ کے بعد امریکہ کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، جبکہ تیل کے رساؤ کو بند کرنے اور متاثرہ علاقوں کی صفائی کرنے پر کمپنی کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مسٹر ہیورڈ کے اس بحران سے نمٹنے کی ان کی صلاحتیوں اور مستقبل کے بارے میں سوال اٹھنے شروع ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں