خیبر پختونخوا: بارشوں سےتباہی

پشاور
Image caption پشاور کے کئی علاقے زیر آب آ گئے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ کے بارہ اضلاع میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جس میں کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ پرووینشل ڈیزاسٹر منجمینٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام قائم ایمرجنسی فلڈ کنٹرول روم کے ایک اہلکار عبد الکبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی شام سے شروع ہونے والے بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کئی علاقے زیرآب آگئے ہیں جبکہ مسلسل بارش کی وجہ سے کئی اہم شاہراہیں بند کردی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، مانسہرہ، ٹانک، بنوں، لکی مروت، کرک ، دیر سوات اور سانگلہ کے اضلاع میں برساتی نالوں میں طغیانی آنے سے سینکڑوں کچے مکانات اس میں بہہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلابی ریلوں میں مکانات بہہ جانے، کرنٹ لگنے اور مکانات گرنے کے واقعات میں کم سے کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق پشاور، مانسہرہ، چارسدہ، ٹانک، کرک اور مردان کے اضلاع سے بتایا جاتا ہے۔

ان کے مطابق تین اضلاع ٹانک، لکی مروت اور نوشہرہ میں ضلعی انتظامیہ نے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کےلیے فوج سے مدد طلب کرلی ہے۔

پشاور شہر کے علاقے چارسدہ روڈ اور پجگی روڈ پر بارشوں کی وجہ سے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں جبکہ سیلاب کی وجہ سے پشاور چارسدہ سڑک بند کردیا گیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ضلع سوات کے علاقے مدین میں رابط پل پانی میں بہہ جانے کی وجہ سے صدر مقام مینگورہ اور کالام کے درمیان زمینی رابط منطقع ہوگیا ہے جبکہ مٹہ اور بحرین میں بھی کئی مکانات سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ضلع شانگلہ میں بھی مون سون بارشوں کی وجہ سے درجنوں مکانات منہدم ہوگئے ہیں۔

جنوبی اضلاع بنوں، کرک، لکی مروت اور ٹانک میں بھی بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ کرک میں سیلابی پانی بازار میں داخل ہونے سے کئی دوکانیں اور مکانات بہہ گئے ہیں۔

محمکہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں صوبہ خیبر پختون خوا کے زیادہ تر اضلاع میں مزید بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں سب سے زیادہ بارش (دو سو اٹھائیس ملی میٹر) لوئر دیر میں ریکارڈ کی گئی ۔