فیس بک کے صارفین کی تفصیلات شائع

فائل فوٹو
Image caption فیس بک استعمال کرنے والوں کی تفصیلات شائع کر دی گئی ہیں

ایک سکیورٹی کنسلٹنٹ نے سماجی رابطے کے لیے مشہور ویب سائٹ فیس بک استعمال کرنے والے تقریبا دس کروڑ لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد اسے شائع کر دیا ہے۔

رون باؤلز نے فیس بک کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ایک خاص ’کوڈ‘ کا استعمال کیا اور ان افراد کے پروفائل حاصل کیے جو پرائیویسی سیٹنگ میں چھپائے نہیں گئے ہیں۔

جو تفصیلات شا‏ئع کی گئي ہیں اس میں صارفین کا یو آر ایل، ان کا پروفائل، نام اور یونیک کوڈ شامل ہے۔

ڈیٹا حاصل کرنے والے رون باؤلز کا کہنا ہے کہ انہوں نے فیس بک کے سکیورٹی ایشوز کو واضح کرنے کے لیے ایسا کیا ہے، جبکہ فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ تفصیلات تو پہلے ہی سے عوام کے لیے حاصل تھیں۔

جو تفصیلات شائع کی گئی ہیں وہ فائل اس وقت انٹرنیٹ پر تیزی سے پھیل رہی ہے۔

فائل دنیا کی مشہر ویب سائٹ '' پائریٹ بے '' پر بھی دستیاب ہے اور اس فائل کو تفریبا ایک ہزار لوگوں نے ڈاؤن لوڈ کیا ہے۔

ویب سائٹ پر لوزی فائر نام کے ایک شخص نے اس ڈیٹا کے متعلق کہا ہے '' بہت زبردست، لیکن تھوڑا خوفناک بھی ہے۔''

فیس بک نے بی بی سی کو جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ جو لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں وہ اپنی انفارمیشن کے خود مالک ہے اور وہ جب ، جیسے اور جس کے ساتھ چاہیں اسے شیئر کر سکتے ہیں۔‘

'' اس معاملے میں وہی انفارمیشن حاصل کی گئی ہیں جو صارفین دوسروں تک پہنچنے دینے میں کو ئی حرج نہیں سمجھتے۔ اوراس طرح کی اطلاعات گوکل وغیر کی سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔''

فیس بک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس تفصیل میں کوئی '' نجی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے اور نا ہی اس سے کوئی سمجھوتہ کیا گیا ہے۔''

ان معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے '' پرائیویسی اٹرنیشنل'' کے سائمن ڈیوئز کا کہنا ہے کہ ’فیس بک کواس طرح کے ممکنہ خطرات کے بارے میں پہلے کئی بار آگاہ کیا جا چکا ہے۔‘ فیس بک استعمال کرنے والوں کو پہلے ہی ان کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے تھا اور اس کی روک تھام کے لیے پہلے ہی سے انتظامات کرنے چاہیں تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ’ فیس بک کے بہت سے صارفین تو پرائیویسی سیٹنگ یعنی اپنی زندگی کے بارے میں معلومات کو کیسے خفی رکھا جاسکتا ہے، اچھی طرح سمجھتے ہی نہیں ہیں۔‘ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پرائیویسی کے متعلق ہمیں اور زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے۔''

سائمن ڈیوئز کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی انتہائی غیر اخلاقی حملہ ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ایک اچھی بات یہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ ذاتی اطلاعات جیسے ای میل اڈریس، فون نمبر اور ڈاک کا پتہ وغیر نہیں شائع کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں