لبنان:شام سعودی سربراہی اجلاس

شاہ عبداللہ  اور صدر بشرالاسد
Image caption لبنان کے استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ شام کے صدر بشرالاسد سے ملاقات کے لیے دمشق پہنچ گئے جہاں سے توقع ہے جمعہ کو دونوں رہنماء لبنان جائیں گے۔

دریں اثناء کہا جا رہا ہے کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی بین الاقوامی عدالت عنقریب اپنے فیصلے میں حزب اللہ کو قصوروار ٹھہرانے والی ہے۔

حزب اللہ لبنان میں حکومت میں شریک ہے اور پارلیمان میں حزب اختلاف کی اہم جماعت ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حزب اللہ کے رہنماؤں پر ملک کے سابق وزیر اعظم کے قتل کے سلسلے میں الزام لگنے سے وہاں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

رفیق حریری کے قتل کے لیے شام کی حکومت پر بھی الزام لگتے رہے ہیں جن کی وہ تردید کرتی ہے۔

دمشق میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شام اور سعودی عرب کےرہنماؤں کا لبنان کا متوقع دورہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو محدود رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری جو اب ملک کے وزیر اعظم ہیں گزشتہ ہفتے دمشق کے دورے پر گئے تھے جو ان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ سعد حریری کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے بھی طے پائے تھے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق لبنان اور شام کو قریب لانے میں سعودی عرب کے بادشاہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب سعد حریری کی جماعت کی سیاسی اور مالی حمایت کرتا ہے۔

شام کی فوج سن دو ہزار پانچ تک لبنان میں تعینات تھی جب اسے داخلی اور خارجی دباؤ کے تحت وہاں سے نکلنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں