طالبان کی ہالینڈ کو مبارکباد

ہالینڈ کے فوجی

افغانستان میں تعینات ہالینڈ کے تقریباً دو ہزار فوجیوں کی چار سال کے بعد اپنے ملک واپسی شروع ہو رہی ہے۔

ہالینڈ کی فوج کے سربراہ جنرل پیٹر فان اُم نے کہا کہ ان کی ارزگان صوبےمیں تعیناتی کے دوران وہاں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

نیٹو نے ہالینڈ کی فوجیوں کی واپسی کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے لیے انتہائی حساس وقت ہے جب ان کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی حکمت عملی کے بارے میں بھی شکوک ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ارزگان صوبے میں ہالینڈ کے فوجیوں کی جگہ امریکہ اور آسٹریلیا کے فوجی لیں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کے مطابق ہالینڈ کے فوجیوں نے افغانستان کے جنوب میں ایک مشکل صوبے میں حالات قابو میں لانے کے لیے نئے طریقے اختیار کیے جن کو دوسرے غیر ملکی فوجیوں کے لیے بھی مثال بنا کر پیش کیا گیا۔

ہالینڈ کی فوج نے دفاع، سفارتکاری اور ترقی پالیسی اپنائی۔ اس پالیسی کے تحت انہوں نے طالبان کے ساتھ لڑائی کے ساتھ ساتھ قبائلی عمائدین سے قریبی تعلقات بنانا اور ترقیاتی کام شروع کروائے۔

جنرل اُم نے بدھ کو ایک اخباری کانفرنس کے دوران بتایا کہ وہاں قیام کے دوران ان کے چوبیس فوجی ہلاک اور ایک سو چالیس زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ان کے اپنے بیٹے بھی شامل تھے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے ہالینڈ کے ایک اخبار کو بتایا کہ ان کی تنظیم ہالینڈ کے عوام اور حکومت کو دلی مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہے اور دوسرے ممالک سے بھی اپنے فوجی واپس بلانے کے لیے کہتی ہے۔

افغانستان میں اس وقت ایک لاکھ پینتالیس ہزار غیر ملکی فوجی تعینات ہیں۔

اسی بارے میں