ایرانی صدر پر حملہ، تردید

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد پر قاتلانہ حملے کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

ایرانی حکام کی جانب سے اب کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا۔ جب کہ اس سے پہلے قدامت پرستوں کی ایک ویب سائٹ میں کہا گیا تھا کہ صوبے ہمدان میں صدر احمدی نژاد کے قافلے پر دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا تھا لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔

صدر احمدی نژاد نے بعد میں ایک سٹیڈیم میں ایک جلسے سے خطاب کیا ہے۔

اس پہلے یہ اطلاعات تھیں کہ ایرانی صدر ہمدان شہر میں ایک جلسے سے خطاب کرنے جا رہے تھے کہ راستے میں ان کے قافلے کے اوپر بم پھینکا گیا۔

ایران کی ویب سائٹ خبر آن لائن کے مطابق ’ آج صبح صدر احمدی نژاد کے قافلے میں شامل صحافیوں کی ایک گاڑی پر دستی بم پھینکا گیا۔‘

اس حملے میں احمدی نژاد محفوظ رہے ہیں اور فٹبال سٹیڈیم میں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کیا جو سرکاری ٹی وی چینل پر براہ راست دیکھایا گیا۔

عرب ٹی وی چینل کی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دبئی کے العربیہ ٹی وی چینل کے مطابق بم حملے کا نشانہ قافلے میں شریک صحافیوں کی ایک گاڑی بنی۔ ٹی وی کے مطابق صدر کی گاڑی سو میٹر دور تھی اور وہ محفوظ رہے ہیں۔

ٹی وی چینل کے مطابق حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔