آخری وقت اشاعت:  اتوار 8 اگست 2010 ,‭ 19:53 GMT 00:53 PST

ایٹم بم گرائے کی جانے کی یاد، امریکہ تقریبات میں شریک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

جاپان میں ہر برس کی طرح ہیرو شیما اور ناگا ساگی پر ایٹم بم گرائے کی جانے کی یاد منائی جارہی ہے۔

پینسٹھ برس قبل چھ اگست 1945 کو ایک لاکھ بیالیس ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ یہ ایٹم بم امریکہ نے دوسری عالمی جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیےگرائے تھے۔ اس قدر تباہی کے بعد جاپان نے گھٹنے ٹیک دئے تھے اور یوں جنگ لاکھوں جانوں کا نذرانہ لیکر ختم ہوگئی تھی۔

ان دونوں شہروں میں جو لوگ اٹیم بم کے حملے میں بچ بھی گئے تھے وہ چھ عشروں سے زیادہ عرصے سے جسمانی اور ذہنی طور ہر اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔

ہیروشیما میں گرائے جانے والا ایٹم بم

تاہم پنسٹھ برس بعد یہ پہلا موقع ہے جب اقوام متحدہ سیکٹری جنرل بان کی مون اور خود امریکی نمائیندے یاد گاری تقریبات میں شرکت کررہے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس کے علاوہ کوئی پچھتر ملکوں کے نمائندے خصوصی طور پر تقریبات میں شرکت کے لیے جاپان آ ئے ہیں۔

ہیرو شیما میں زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ کہ یہ دن منانے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ جوہری بم ایک نسل کے لیے نہیں کئی نسلوں کی تباہی کا نام ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔