کشمیر میں کاروبارِ زندگی رات کو

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے عوامی احتجاج، ہڑتالوں اور کرفیو کا سلسلہ جاری ہے۔ کرفیو کی خلاف ورزیوں اور اجتجاجی جلوسوں پر سیکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کے واقعات میں اب تک پچاس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن ان میں کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں اور سب سے کم عمر لڑکے کی عمر صرف نو سال تھی۔

مزمل جلیل کا مکمل انٹرویو سننے کےلیے کلک کریں

بچوں کی ہلاکتوں سے عوامی احتجاج میں شدت آئی ہے اور جلوسوں اور ہنگاموں کو سلسلہ تھم نہیں رہا۔ حکومت نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے وادی میں مسلسل کرفیو لگا رکھا ہے۔

لوگوں اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے اب رات کے پچھلے پہر بازاروں کا رخ کرتے ہیں اور دکانیں کھولی جاتی ہیں۔

کشمیر میں بھارت کے ایک مقتدر اخبار انڈین ایکسرپریس کے بیورو چیف نے بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر آپ سرینگر اور کسی دوسرے قصبے میں جائیں تو رات کو لوگ کاروبار کرتے نظر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو عام ضرورت کی اشیاء حاصل کرنے میں مشکالات کا سامنا ہے لیکن اس کا حل انھوں نے یہ ڈھونڈا ہے کہ وہ رات کے وقت کاروبار کرتے ہیں۔ گوالے اپنی دکانیں کھولتے ہیں اور لوگ دودھ اور دیگر اشیاء خریدتے نظر آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فوج آدھی رات کے بعد گلی اور کوچوں کرفیو ڈیوٹی ختم کرکے چلی جاتی ہے اور صبع سویرے وہ اپنی ڈیوٹیوں پر واپس آتے ہیں۔ اس وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ بازاروں میں آتے ہیں اور خرید و فروخت کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے بارے میں انھوں نے کہا کہ حالیہ احتجاج اگر ختم بھی ہوجائے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا اور کچھ دنوں بعد پھر کسی وجہ سے اجتجاج شروع ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی مستقبل حل ڈھونڈنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک دائمی بیماری بن گئی ہے اور یہ بیماری جب تک ختم نہیں ہو گئی جب تک بنیادی مسئلہ حل نہیں کیا جاتا۔