پاکستان سے پکی دوستی قائم: کیمرون

ڈیوڈ کیمرون اور آصف زرداری
Image caption طوفان آئیں گے اور طوفان جائیں گے لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے: زرداری

برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملکوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کی چیکرز میں سرکاری رہائش گاہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات باہمی دلچسپی کے امور اور اعتماد پر قائم ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کا سیلاب زدگان کے لیے برطانوی امداد اور مختلف طریقوں سے پاکستان کی امداد کی پیش کشوں پر شکریہ ادا کیا۔

برطانیہ نے یونیسف کے ذریعے پاکستان کو سیلاب کی امداد کی مد میں پچاس لاکھ پاؤنڈ دیے ہیں اور پچاس لاکھ پاؤنڈ براہ راست پاکستان ایمرجنسی ریسپونس فنڈ میں دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں برطانیہ کے عوام اور خاص طور پر وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون کی شکر گزار ہوں جنھوں نے میری مہمان نوازی کی اور ان مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی جن کا پاکستان میں ہمیں سامنا ہے۔‘

برطانیہ کے وزیر اعظم کے دورۂ بھارت کے دوران ان کے متنازع بیان کے پس منظر میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اصرار کیا کہ برطانیہ اور پاکستان کے رشتے لازوال ہیں اور کوئی چیز ان کے آّڑے نہیں آ سکتی۔

اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی کشیدگی یا تناؤ نظر نہیں آیا۔ صدر آصف علی زرداری نے ان کلمات سے کہ ’طوفان آئیں گے اور طوفان جائیں گے لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے اس کنھچاؤ کی طرف اشارہ کیا جس پس منظر میں یہ ملاقات ہوئی ہے۔

ڈیویڈ کیمرون نے اپنی اس ملاقات میں ان چیلنجوں پر زور دیا جن کا دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سامنا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ دس ڈاؤننگ سٹریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات بہت خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والی پیش رفت پر زور دیا گیا۔

اسی بارے میں