سری لنکا: تفتیشی کمیشن کا عوام سے رابطہ

سری لنکا
Image caption گزشتہ برس جنگ کے بعد تمل باغیوں کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا

سری لنکا میں گزشتہ برس ہونے والی خانہ جنگی کی تفتیش کرنے والا آٹھ رکنی کمیشن بدھ کو پہلی بار عوام سے رابطہ کررہا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس جنگ کے خاتمے سے پہلے حکومتی فورسز اور تمل باغیوں نے جنگی جرائم کیے ہونگیں۔حالانکہ سری لنکا کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

اس کا کا کہنا ہے کہ کمیشن خود حقائق کا پتہ لگا لے گا۔

سری لنکا کی مغربی ممالک سے ہمیشہ دوستی رہی ہے لیکن گزشتہ برس جنگ کے آخری مہینوں میں واشنٹگٹن اور لندن کے علاوہ دیگر ممالک میں جنگ سے متعلق بے چینی پائی گئی ہے۔

اٹنرنیشنل کرائسیز گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ تمل باغیوں کے ساتھ جنگ کے دوران فوج نے کئی ہزار شہریوں کو مارا ہوگا۔

کولمبو نے اس طرح کے الزامات کو رد کردیا ہے۔

سری لنکا کی حکومت نے جنگ کی عالمی تفتیش کی بھی مخالفت کی ہے۔اس نے اپنا ایک کمیشن بنایا جس نے بدھ کو عوام سے رابطہ شروع کیا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ عام عوام سے بات کرے گا اور انکے تجربات اور بیانات قلم بند کے گا۔ حالانکہ رپورٹس کے مطابق کمیشن نے شنوائی کا عمل سری لنکا کے سرکاری اہلکاروں اور سفارتکاروں کے بیانات کے ساتھ شروع کیا ہے۔

اسی بارے میں