برما: عام انتخابات سات نومبر کو ہونگے

فائل فوٹو
Image caption برما میں فوجی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں

برما میں فوجی حکمراں نے آئندہ سات نومبر کو عام انتخابات کرنے کا اعلان کیاہے جو بیس برس بعد کرائے جارہے ہیں۔

اس سے پہلے انیس سو نوے کے انتخابات میں جمہوریت نواز رہمنا آنگ سان سو چی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریٹک پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی تاہم فوج نے آنگ سو کی پارٹی کو کبھی بھی اقتدار نہیں سونپا اور ان کی جماعت پر پابندی عائد ہے۔

اُس کے بعد سے یہ پہلے عام انتخابات ہونگے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی عام انتخابات کے متعلق مہینوں سے جاری قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں۔

انتخابات کے لیے ووٹنگ پر کنٹرول ہے اور نئے آئین کے تحت پارلیمان کی پچیس فیصد سیٹیں فوج کے لیے ریزرو ہیں۔

آنگ سوچی گزشتہ بیس برسوں سے یا تو جیل میں ہیں یا پھر اپنے گھر کے اندر محصور رہی ہیں۔خود محترمہ سو چی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ فوجی حکومت کے مطابق وہ ایک سزا یافتہ شہری ہیں۔

انتخابات کا اعلان ملک کے انتخابی کمیشن نے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر کیاہے۔ اعلان کے مطابق '' مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل عام انتخابات اتوار سات نومبر کو منعقد ہوں گے۔''

بینکاک میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کے مطابق بعض لوگ اس پول کو محض ایک دکھاوا مانتے ہیں لیکن بعض مبصرین کے مطابق برما کی سیاست میں یہ ایک بنیادی تبدیلی کی ابتداء ہوسکتی ہے۔

عالمی مبصرین نے فوج کی جانب سے انتخابی مہم پر اس قدر کنٹرول پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ جنوب مشرقی ایشائی ممالک پر مشتمل تنظیم آسیان نے کئی بار صاف شفاف انتخابات کے لیے زور دیا ہے۔ برما خود بھی اس تنظیم کا ایک رکن ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین نے جمہوریت کی بحالی کے اقدامات نہ کرنے پر برما کی فوجی حکومت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

برما کی فوجی حکومت نے مارچ میں انتخابات کے لیے جو نئے اصول و ضوابط بنائے ہیں اس کے مطابق کوئی بھی فرد جس پر مجرمانہ قسم کا مقدمہ ہو وہ نا تو کیسی سیاسی جماعت کا رکن ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ انتخاب لڑ سکتا ہے۔

انتخابی مہم پر بھی کئی طرح کی پابندیاں عائد ہیں جس کے خلاف آنک سانگ سوچی کی جماعت نے احتجاج کیا تھا۔ '' نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی '' نے بطور احتجاج ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ فوجی حکومت کے ضوابط کے تحت رجسٹر کرانے سے انکار کرنے پر نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اسی بارے میں