’نجی سکیورٹی کمپینوں کو کام بند کا حکم‘

Image caption اس وقت افغانستان میں باون کے قریب مقامی اور بین الاقوامی نجی سکیورٹی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے حکم دیا ہے کہ نجی سکیورٹی کمپنیاں چار ماہ کے اندر ملک میں اپنی کارروائیاں بند کر دیں۔

افغان صدر کرزئی نے یہ الٹی میٹم کابل میں ایک حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے جاری کیا ہے۔

منگل کو صدر کرزئی نے جو حکم نامہ پڑھ کر سنایا ہے اس کے مطابق سکیورٹی کمپنیوں کے آپریشنز کو محدود کرنے کے وعدے کے مطابق کنٹریکٹرز کو یا تو ختم یا افغان پولیس میں شمولیت اختیار کرنا ہو گی۔

اس حکم نامے کا اطلاق ایسے کنٹریکٹرز نہیں ہو گا جو غیر ملکی سفارت خانوں اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے لیے کام کرتے ہیں تاہم نجی محافظوں کو چار دیواری کے اندر رہنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ایسے افسوناک واقعات پیش آئے ہیں جن میں نجی کنٹریکٹرز کی وجہ سے معصوم افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ نیٹو کی جانب سے اس حکم نامے پر مزاحمت ہو گی کیونکہ غیر ملکی افواج اپنے قافلوں اور اڈوں کی حفاظت کے لیے نجی سکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

امریکہ کے دفتر خارجہ نے کہا کہ وہ اس حکم نامے کے وضاحت اور مزید تفصیلات دیکھنا چاہیے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ ہمارا یقین ہے کہ ابھی افغانستان میں نجی سکیورٹی کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، چار ماہ کی ڈیڈ لائن ایک چیلنج ہے۔‘

اس وقت افغانستان میں باون کے قریب مقامی اور بین الاقوامی نجی سکیورٹی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کیونٹن سمرویل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں متعدد سکیورٹی کمپنیاں بغیر کسی رجسٹریشن اور یونیفام کے کام کر رہی ہیں۔

افغان پولیس اور فوج ملک کے ایک بڑے حصے میں بین الاقوامی فورسز کے تعاون کے بغیر کارروائی نہیں کر سکتی ہیں۔

Image caption بین الاقوامی فوج اپنے قافلوں اور اڈوں کی حفاظت کے لیے نجی محافظوں کی خدمات حاصل کرتی ہے

صدر حامد کرزئی نے صوبہ قندوز میں طالبان کے ہاتھوں ایک ایک جوڑے کو سنگسار کرنے کرنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے اس ٰضمن میں افغان سکیورٹی حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

’ دو نوجوان افغان شہریوں کو بغیر کسی باقاعدہ قانونی کارروائی کے بعد سنگسار کرنا غیر انسانی اور غیر اسلامی فعل ہے جسے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی‘

انسانی حقوق کی بین لاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنشیل نے کہا ہے کہ دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے بعد سنگساری کا یہ پہلا واقعہ ہے جس کی اطلاع ملی ہے۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ طالبان کے زیر کنڑول ملا قلی نامی گاوں میں پیش آیا ہے۔ جہاں ایک بازار میں تقریباً ایک ہزار لوگوں کے سامنے جوڑے کو سنگسار کیا گیا۔

اسی بارے میں