عراق:خود کش حملے میں انسٹھ ہلاک

فائل فوٹو
Image caption امریکی فوجی عراق میں اپنا آپریشن اسی ماہ سے بند کر رہے ہیں

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں فوج کے لیے بھرتی کرنے والے مرکز میں منگل کی صبح ایک خودکش حملے میں ہلاک انسٹھ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

خودکش حملے پر امریکہ نے کہا ہے کہ عراق میں جمہوری عمل متاثر نہیں ہو گا اور امریکی فوج کا انخلا بھی نہیں رکے گا۔

خیال رہے کہ عراق میں خودکش حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب ایک دن پہلے پیر کو نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات معطل ہو گئے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان بل برٹن کا کہنا ہے کہ ’ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو عراقی عوام کی جانب سے جمہوریت کی جانب جاری سفر کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم ارادہ پر مضبوطی سے قائم ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم جنگ کے مشن کے اختتام کے لیے فوج کے انخلا کی جانب بڑھتے رہیں گے۔‘

اس سے پہلے منگل کی صبح بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار ہگ اسکائیز کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی بھرتی کے لیے یہ دفتر بغداد کے وسط میں واقع ہے اور خود کش حملہ آور بھرتی کے مرکز کے وسط میں پہنچ گیا تھا جہاں لوگ گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔

یہ حملہ شہر کے مصروف ترین بس سٹاپ کے پاس بھیڑ بھاڑ میں ہوا ہے۔ صبح کے وقت لوگوں کی بھیڑ رہتی ہے اور حملہ آور کو اندر تک جانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ نے اسی ماہ عراق میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عراق میں مارچ میں ہوئے عام انتخابات میں کسی بھی جماعت کو اکثریت نہیں ملی تھی اور ملک کی دونوں اہم جماعتیں حکومت سازی کے لیے جو بات چیت کر رہی تھیں وہ دونوں نے گزشتہ روز ہی معطل کی ہے۔

عراق میں دو ہزار چھ اور سات کے مقابلے میں اب تشدد میں تو کمی آئی ہے لیکن جولائی کے مہینے میں عام شہریوں کی ہلاکت میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

اسی بارے میں