عدالت میں گواہ کونقاب ہٹانے کا حکم

فائل فوٹو
Image caption جج کے مطابق گواہ کو چہرا چھپا کر گواہی دینا مناسب نہیں ہے

آسٹریلیا میں ایک جج نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر دھاندلی کا معاملہ ہو تو پھر عدالت میں گواہی دیتے وقت مسلم خاتون کو اپنے چہرے سے نقاب ہٹانا ضروری ہے۔

پرتھ کی ایک عدالت میں جج کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہ غیر مناسب بات ہے کہ گواہی کے لیے عدالت میں چہرا چھپا کر پیش ہوا جائے۔

جبکہ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ مذکورہ خاتون، جن کی شناخت تسنیم کے نام سے ہوئی ہے، بغیر نقاب کے پر اعتماد محسوس نہیں کریں گی جس سے ان کی گواہی متاثر ہو سکتی ہے۔

لیکن دفاعی وکیل نے کہا کہ جیوری کے لیے ان کے چہرے کے تاثرات دیکھنا ضروری ہے۔

دفاعی وکیل مارک ٹرویل کا کہنا تھا کہ چھتیس سالہ مذکورہ خاتون کے لیے نقاب کا پہننا ان کی ’ترجیحات‘ میں شامل ہے ’لیکن اسلامی عقیدہ کا کوئی لازمی جزء نہیں ہے‘۔

اخبار ہیرالڈ سن کے مطابق وکیل کا کہنا تھا کہ اسلامی عدالتوں میں خواتین کا بغیر نقاب کے پیش ہونا عام بات ہے۔

جج شونا ڈیئین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاتون کو نقاب ہٹانا ضروری ہے لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس حکم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے قانونی شکل دیدی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس خاص معاملے کے لیے ہی یہ ان کا حکم ہے جسے نظیر نہیں بنایا جا سکتا۔

جج نے اس بارے میں دوسری عدالتوں کی مثالوں کو بھی مسترد کردیا اور کہا ہے کہ یہ آسٹریلیا کی عدالت ہے کوئی اسلامی عدالت نہیں ہے۔

مذکورہ خاتون ایک اسلامی مدرسے کے پرنسپل کے خلاف مقدمے میں گواہ تھیں جن پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے زیادہ امداد حاصل کرنے کے لیے طلباء تعداد برھا چڑھا کر پیش کی تھی۔

وہ آسٹریلیا میں گزشتہ سات برسوں سے رہتی رہی ہیں اور سترہ برس کی عمر سے ہی وہ نقاب پہنتی رہی ہیں۔ اپنے خاندان اور قریبی رشتےداروں کے علاوہ کسی دیگر کے سامنے بے پردہ نہیں ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں