طالبان کی سرگرمیوں میں کمی:پیٹریئس

ڈیوڈ پیٹرئیس
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ہ ہر حالت میں آئندہ برس جولائی سے افغانستان میں اپنی فوج میں کمی کرنا شروع کر دے گا۔

افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر کا کہنا ہے کابل کے علاوہ جنوبی افغانستان کے بعض حصوں میں طالبان کی جو سرگرمیاں تیز ہوئی تھیں ان میں کمی آئی ہے۔

جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس کا کہنا تھا کہ طالبان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ضروری ہے۔

بی بی سی نیوز کے جان سمپسن سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئندہ جولائی میں افغان فوج کو اختیارات سونپنے سے پہلے اس بارے میں وہ صدر براک اوباما کو اپنی بہتر سے بہتر پیشہ وارانہ رائے پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ براک اوباما پر ہے کہ وہ میری رائے مانتے ہیں یا نہیں۔

جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس کو یقین ہے کہ جو کامیابی انہوں نے عراق میں حاصل کی ہے وہی وہ افغانستان میں بھی دوہرا سکیں گے۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ جولائی میں افغانستان سے فوج کے انخلاء میں کوئی خطرہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بھی وہ صدر اوباما کو آگاہ کریں گے۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا انہیں جنرل میکرسٹل کی طرح اپنی نوکری گنوانے کا ڈر نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا ’جب اس طرح کی نوکری میں ہوتے ہو تب آپ کو لگتا ہے کہ یہ آپ کی آخری نوکری ہے‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس نے کہا تھا کہ افغانستان سے فوج کے انخلاء کے ہدف پر عمل کرنا لازم نہیں ہے جبکہ امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکہ ہر حالت میں آئندہ برس جولائی سے افغانستان میں اپنی فوج میں کمی کرنا شروع کر دے گا۔

جنرل پیٹرئیس نے کہا تھا کہ انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صدر باراک اوباما کو بتائیں کہ انخلاء کی تاریخ جلد بازی تو نہیں ہے۔ ان کا یہے بھی کہنا تھا کہ افغانستان مشن ایک مشکل مشن ہے اور مشکل رہے گا۔

اسی بارے میں