آخری وقت اشاعت:  جمعرات 26 اگست 2010 ,‭ 14:44 GMT 19:44 PST

کئی ماہ لگ جائیں گے

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

چلی کے وزیر صحت نے بتایا ہے کہ کان میں پھنسے ہوئے کانکنوں کو باہر نکالنے میں کئی ماہ تک لگ سکتے ہیں، اس بارے میں کارکنوں کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

چلی کے شہر پیاپو کے قریب سونے اور تانبے کی ایک کان میں پانچ اگست سے تینتیس کانکن زمین سے سات سو میٹر نیچے پھنسے ہوئے ہیں اور تمام کانکن بخیریت ہیں۔

کانکوں کو باہر نکالنے کے لیے کان کے دہانے پر ایک علیحدہ سرنگ کھودی جارہی ہے، جہاں سے ان کاکنوں کو ایک چھبیس انچ چھوڑے سوراخ سے ایک ایک کرکے باہر کھینچا کر باہر جائیگا۔

اس دوران کاکنوں کو ایک ٹیوب کے ذریعے کھانے پینے کا سامان فراہم کیا جارہا ہے۔

چلی کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران کانکن ا عصابی دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں اس لیے امریکی خلائی ادارے ناسا سے اس بارے میں صلاح مشورے کیے جارہے ہیں کہ تنہائی میں مقید افراد کی ذہنی صحت کو بحال رکھنے کے لیے کیا اقدامات کے جاسکتے ہیں۔

کانکوں کے عزیز و اقارب کان کے باہر اُن کی سلامتی کے لیے شمعیں روشن کررہے ہیں

انھوں نے بتایا کہ کاکنوں کو مصروف اور صحت مند رکھنے کے لیے مختلف قسم کے تفریحی اور جسمانی ورزش کے پروگرام کے علاوہ اینٹی دیپریسنٹ یعنی اعصابی دباؤ سے نمٹنے کے لیے سکون آور ادویات بھی فراہم کیے جارہی ہیں۔

کاکنوں سے بات چیت کے لیے ایک ٹیلی فونک رابطہ بھی بنایا گیا ہے۔

یہ کارکن کوپیاپو شہر کے قریب سین ہوزے نامی کان کے اندر دو ہزار تین سو فٹ نیچے کام کر رہے تھے جب اوپر کی جانب ایک بڑا پتھر گر گیا اور واپسی کا راستہ بند ہو گیا۔

ایک موقع پر ان کے بچنے کی امید ختم ہو چکی تھی۔

تاہم امدادی کارکنوں نے جب کان کے اندر معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک پتلی ٹیوب کے ساتھ لگا ہوا کیمرا بھیجا تو انہیں اندر سے کھدائی کی آوازیں سنائیں دیں۔

جب اس ٹیوب کو باہر نکالا گیا تو اس میں ایک پرچی لگی ہوئی تھی جس پر لکھا تھا ’ہم تمام تینتیس لوگ خیریت سے ہیں‘۔

صدر پینیرا اس موقع پر کان پر موجود تھے اور انہوں نے کان کنوں کے زندہ ہونے کی خبر کا اعلان کیا۔ مسٹر پینیرا نے کہا کہ انہوں نے کیمرے کی فوٹیج دیکھی ہے جس میں کان کن کیمرے کی جانب ہاتھ ہلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں باہر نکالنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں لیکن چاہے جتنا بھی وقت لگے ہم انہیں نکال لیں گے‘۔

یہ کانکن سونے اور تانبے کی اس کان کے اندر ساڑھے چار میل دور دو ہزار تین سو فٹ گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔