چلّی: کان کن ڈپریشن کا شکار ہوگئے

چلی/ پھنسے کان کن
Image caption ڈیپریشن کے شکار کان کنوں نے فلم بنوانے سے انکار کردیا ہے

چلی میں حکام کا کہنا ہے کہ چلّی میں دھنسی ہوئی کان میں پھنسے ہوئے بعض کان کن ڈپریشن کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کی حالت اچھی نہیں ہے۔

چلی کے وزیر صحت جم منالچ کا کہنا ہے کہ تینتیس پھنسے ہوئے کان کنوں میں سے پانچ اچھی طرح سے کھانا نہیں کھا رہے ہیں اور انہوں نے اپنی فلم بنوانے سے انکار کیا ہے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ماہر نفسیات ان کان کنوں کا ٹیلی کام کے ذریعے علاج کرنے کی کوشش کریں گے۔

انجینیروں کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے کان کنوں کو نکالنے کے لیے پیر سے سرنگ بنانے کا کام شروع کر دیا جائیگا جس میں تقریباً چار ماہ لگ سکتے ہیں۔

چلی میں ان پھنسے ہوئے افراد کی ٹی وی پر جو تصویریں نشر کی گئی ہیں ان میں سے بیشتر اچھی حالت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن پانچ افراد فلم میں نظر نہیں آئے۔ چلی کے وزیر صحت کا کہنا تھا ’وہ اپنے آپ کو تن تنہا محسوس کرتے ہیں، وہ فلم میں دکھنا نہیں چاہتے اور وہ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھاتے ہیں۔ میں تو یہی کہونگا کہ ان کے لیے افسردگی کا لفظ مناسب ہے‘۔

ان تینتیس کان کنوں کو پھنسے ہوئے تین ہفتہ گزر چکا ہے اور ان زندہ ہونے کا علم بائیس اگست کو ہوا تھا۔

انہیں ضروری اشیاء مہیا کرانے کے لیے اوپر سے ایک چھوٹی سرنگ کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ انہیں نکالنے کے لیے سرنگ کھودنے کی غرض سے بھاری بھرکم مشینری آسٹریلیا اور سپین سے طلب کی گئی ہے جو اس مقام پر جمع کی جا رہی ہے۔

اس دوران پھنسے ہوئے افراد کے اہل خانہ بھی وہاں پہنچ گئے ہیں اور کان کے آس پاس ہی زمین پر اپنے کیمپ لگا دیے ہیں۔ حکام نے رشتے داروں سے کہا ہے وہ زیادہ سے زیادہ اپنے لوگوں کے لیے ایسے خطوط لکھیں جس سے ان کی ہمت افزائی ہو اور ان کا حوصلہ برقرار رہے۔

پھنسے ہوئے کان کنوں کے تقریبا اٹھائیس رشتے داروں نے اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔

بدھ کے روز حکام نے کان کنوں کو بتایا تھا کہ انہیں نکالنے میں چار ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت تک انہوں نے یہ خبر آرام سے سن لی لیکن بعد میں بعض افراد اس سے کافی مایوس ہوئے اور ذہنی طور پر انہیں کافی چیلنجز کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں