انڈونیشیا: آتش فشاں پھٹی، ہزاروں بے گھر

آتش فشاں
Image caption سنیچر کو ہی آتش فشاں سے دھواں اٹھنا شروع ہوگیا تھا

انڈونیشا کے سماترا جزیزے میں میں ایک آتش فشاں پھٹنے کے سبب ہزاروں افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

یہ آتش فشاں چار سو برس بعد پھٹا ہے۔ آتش فشاں پھٹنے کے سبب کم از کم بارہ ہزار افراد کو اپنے گھروں کو چھوڑکر جانا پڑا ہے۔

سنمبگ نامی پہاڑ پر اتوار کی نصف شب آتش فشاں سے لاو نکلنا شروع ہوا تھا جس کے بعد علاقے میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق آتش فشاں پھٹنے کے سبب آسمان میں 1500 میٹر تک دھواں اور راکھ اڑرہا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کئی میل دور سے وہ آتش فشاں سے اٹھتا ہوا لاوا دیکھ سکتے تھے۔

اس آتش فشاں سے سنیچر کے روز سے ہی دھواں اٹھ رہا تھا لیکن حکام کی جانب سے کوئی الرٹ نہیں جاری کیا گیا تھا اور مقامی میڈیا کے مطابق مقامی شہریوں کو آتش فشاں پھٹنے پر کوئی تعحب نہیں ہوا ہے۔

ایک مقامی نے ایک مقامی شہری کا بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں لاوے کو آگ کے گيند کی طرح اپنی طرف آتے دیکھا ہے۔

انڈونیشیا میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی پیادی کاردونو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قریبی گا‎ؤں سے کم از کم دس ہزار افراد کو محفوظ جگہ منتقل کردیا گیا ہے۔ لیکن انکا یہ بھی کہنا تھا کہ بعض افراد اپنے گھر واپس پہنچ رہے ہیں کیونکہ آتش فشاں کی آگ کم ہوگئی ہے۔

انڈونیشیا میں وولکینو ڈیزاسٹر سینٹر کے سربراہ سرونو نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ حالات ' واضح طور پر خطرناک' ہیں اس لیے ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

انکا کا کہنا تھا ' ابتدا میں ہم نے سوچا کہ بارش کی وجہ سے آتش فشاں سے دھواں اٹھ رہا ہے لیکن اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ زمین کے اندر موجود مادہ میگما کی وجہ سے آتش فشاں پھٹا ہے'۔

اسی بارے میں