محمود عباس کو طاعون کی بددعا

ربّی اویدیا یوسف
Image caption اویدیا یوسف ماضی میں بھی اشتعال انگیز بیانات دے چکے ہیں

اسرائیل کی مخلوط حکومت میں شامل ایک جماعت کے سینئر یہودی مذہبی رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینی رہنما محمود عباس کو اس دنیا سے اٹھ جانا چاہیے۔

شاس کے روحانی رہنما ربّی اویدیا یوسف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں مشرقِ وسطٰی امن مذاکرات کا آغاز ہونے والا ہے۔

امریکہ نے ربّی کے بیان کو ’انتہائی اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے اس بیان سے دوری اختیار کی ہے کہ ان کی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ امن کی خواہاں ہے۔

فلسطین کے مرکزی مذاکرات کار صائب ارکات کا کہنا ہے کہ یہ بیان ’نسل کشی کو دعوت دینے کے مترادف ہے‘۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ’امن کے قیام اور نفرت کے پھیلاؤ میں کمی کے لیے کوششیں کرے‘۔

اویدیا یوسف نے یہ بات اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ابوماذن (محمود عباس) جیسے تمام شرپسند لوگ جو اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں انہیں دنیا سے اٹھ جانا چاہیے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’خدا ان لوگوں سمیت اسرائیل پر طعنہ زنی کرنے والے تمام شرپسند فلسطینیوں کو طاعون میں مبتلا کر دے‘۔

انتہائی قدامت پسند شاس جماعت کے بانی کے اس بیان پر امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان فلپ کراؤلی کا کہنا ہے کہ ’ہم ربّی اویدیا یوسف کے اشتعال انگیز بیان کی مذمت کرتے ہیں اور ہمیں اس پر افسوس ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ بیان نہ صرف انتہائی اشتعال انگیز ہے بلکہ اس قسم کے بیانات سے امن کے عمل کو بھی نقصان پہنچتا ہے‘۔

نواسی سالپ اویدیا یوسف کی شخصیت پہلے بھی عربوں، سیکولر یہودیوں، خواتین اور آزاد خیال افراد کے حوالے سے بیانات کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہ چکی ہے۔ سنہ 2001 میں انہوں نے کہا تھا کہ عربوں کو نیست و نابود کردینا چاہیے اور ان پر رحم کرنا جائز نہیں۔

اسی بارے میں