نیٹو حملے میں متعدد شہری ہلاک

فائل فوٹو
Image caption افغانستان میں فوجی کارروائی میں شہریوں کی ہلاکت ایک بڑا مسئلہ ہے

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کے ایک فضائی حملے میں انتخابی مہم پر نکلے دس عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ جو جمہوریت کے حامی ہیں اور جو اس کے مخالف ہیں اس میں تمیز کرنا ضروری ہے۔

لیکن نیٹو کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک شدت پسند کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔نیٹیو کے مطابق ’اسلامک مؤمنٹ آف ازبکستان‘ کے ایک رکن کو نشانہ بنا تھا جو اکثر اس علاقے میں گاڑی میں سفر کرتے تھے۔

نیٹو ترجمان کے مطابق اس حملے کی با قاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔’گاڑی چھ گاڑیوں کے قافلے پر مشتمل تھی اور جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اس کے علاوہ کوئی دوسری کار اس کی زد میں نہیں آئی ہے۔‘

نیٹو کے بیان کے مطابق ابتدائی اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ اس حملے میں ایک طالبان سمیت بارہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ ’ان مسافروں میں سے بہت سے ہتھیاروں سے لیس تھے۔‘

لیکن صوبہ تخار کے گورنر عبدالجبّار تقوی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ علاقہ پر امن ہے اور وہاں حکومت مخالف کسی بھی طرح کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

’بغیر کسی آپسی تال میل اور مقامی حکام کو بتائے بغیر ہی اپنے آپ سے ہی انہوں نے ان شہریوں پر حملہ کر دیا جو پارلیمان کی انتخابی مہم پر نکلے ہوئے تھے۔‘

گورنر کا کہنا تھا کہ عبدالواحد خراسانی روستاق کے پارلیمانی حلقے سے امید وار ہیں جو اپنے حامیوں پر مشتمل ایک قافلے کے ساتھ انتخابی مہم پر تھے۔ ان کے ساتھ ہتھیار بند گارڈز بھی تھے جن میں سے حملے میں کئی ایک زخمی ہو گئے ہیں۔

گورنر کے ایک ساتھی نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح نو بجے کے قریب تقریبا سو کاروں پر مشتمل مسٹر خراسانی کا قافلہ خواجہ بہاؤالدین سے کیوان گاؤں کے لیے روانہ ہوا تھا۔ پہلے ایک جیٹ طیارے نے اس پر بم برسائے پھر ہیلی کاپٹر سے اس پر فائرنگ کی گئی۔ اس سے ایک مقامی کمانڈر امین اللہ سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے۔ امین اللہ مجاہدین گروپ کے ایک سابق کمانڈر ہیں جو طالبان کا حصہ نہیں رہے۔

’میں عالمی فوج سے کہتا ہوں کو وہ انٹیلی جنس کے لیے مناسب چینل اپنائے، طالبان یا اسلامک مؤومنٹ کے کمانڈر سو کاروں کے قافلوں میں نہیں چلا کرتے ہیں۔‘

اس حملے میں انتخابی امیدوار عبدالجبّار خراسانی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے سب کے سب ان کے رشتے دار اور حامی ہیں۔

’میرا خیال تھا کہ بیرونی فوج یہاں جمہوریت کے فروغ کے لیے ہے، سوچتا تھا کہ وہ انتخاب میں ہمارے مدد گار ہیں لیکن انہوں نے تو ہمیں نشانہ بنا دیا۔‘

ادھر امریکی میرین کے میجر جنرل ڈیوڈ گراز نے کہا ہے کہ انہیں شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کا علم ہے اور وہ اس کی تہہ تک جانے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں