’مشرق وسطیٰ پر براہ راست مذاکرات تعمیری‘

مشرقِ وسطیٰ پر مذاکرات
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کا کوئی حل مسلط نہیں کرنا چاہتا

امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو سال بعد ہونے والے پہلے براہ راست مذاکرات کو تعمیری قرار دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر براک اوباما کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو اور فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے درمیان بات چیت’ تعمیری‘ تھی۔

دونوں رہنما دو ہفتوں میں دوبارہ مشرق وسطیٰ میں ملنے پر متفق ہوئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی جارج میچل نے کہا ہے کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ رواں ماہ کی چودہ - پندرہ تاریخ کو مشرق وسطیٰ میں بات چیت کریں گے اور اس کے بعد ہر دو ہفتے بعد اسی طرح بات چیت ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ اس بات پر فریقین پہلے ہی راضی ہو چکے ہیں کہ ایسے اختلافات جو ان کو تقسیم کرتے ہیں پر کسی سمجھوتے کے لائحہ عمل پر پہنچنے کے لیے دونوں مل کر کام کریں گے تاکہ خوش دلی سے ایک جامع معاہدے کا راستہ اپنایا جا سکے۔

امریکہ نے براہ راست مذاکرات کی ’مکمل اور فعال حمایت‘ کا وعدہ کیا ہے۔

دریں اثنا فلسطینی تحریک کے مسلح گروپ حماس نے اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی تحریک کے مسلح گروپ حماس نے کہا ہے کہ اس نے رواں ہفتے غرب ادرن میں یہودی آباد کاروں پر دو حملے کیے ہیں جس میں چار اسرائیلی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

جمعرات کو ایک بارہ سالہ اسرائیلی لڑکی معمولی زخمی ہو گئی تھی جب غرب اردن میں اسی کی گاڑی پر پتھر پھینکے گئے تھے۔

حماس مذاکرات کا حصہ نہیں ہے کیونکہ اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین اس کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ حماس نے اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

فلسطینی رہنما، اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی صدر نے ان ہلاکتوں کو امن مذاکرات میں خلل ڈالنے کی حماس کی ایک کوشش قرار دیا۔

اس سے پہلے دونوں رہنماوں کے درمیان بات چیت جب شروع ہوئی تو اس وقت امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو اور فلسطینی رہنما محمود عباس کے پاس اس لڑائی کو ختم کرنے کا موقع ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ دونوں فریقوں کی طرف سے تکلیف دہ رعایتوں کی ضرورت ہے۔

فلسطینی رہنما نے اسرائیل سے کہا کہ وہ بستیوں کی تعمیر روک دے اور غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کر دے۔

امریکی دفترِ خارجہ میں ہونے والے مذاکرات گزشتہ بیس ماہ میں اس طرح کے ہونے والے پہلے مذاکرات تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے یہ مذاکرات شروع کیے ہیں اور دونوں فریقوں کو ایک سال کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

انہوں نے فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے پائیدار امن کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔

براک اوباما نے ان مذاکرات کے لیے اپنی حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ’یہ موقع شاید پھر کبھی نہ آئے۔‘

انہوں نے کہا کہ مقصد پائیدار تصفیحہ ہے جس سے ان علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ختم ہو جو اس نے 1967 میں قبضے میں لیے تھے اور ایک آزاد، جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام ہو جو امن کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ رہے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے فلسطینی رہنما اور اسرائیلی وزیر اعظم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

براک اوباما نے محمود عباس اور نیتن یاہو کی مذاکرات کی کوشش کو سراہا اور کہا کہ یہ دونوں رہنما امن کے خواہاں ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ دونوں فریقین کو ہی امن کے لیے کوشش کرنی ہو گی اور یہ کہ فریقین سے زیادہ امریکہ امن کا خواہشمند ہے۔

واشنگٹن سے ہمارے نامہ نگار زبیر احمد نے بتایا کہ دونوں فریق یہ پہلے سے ہی اشارے دے رہے ہیں کے وہ اپنے موقف میں لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیلی وفد کے ایک مذاکرات کار یوسسی بیلن کے مطابق ایک عارضی سمجھوتہ ممکن ہے۔

اسی بارے میں