چلی: کان کنوں کو ورزش کا مشورہ

چلی
Image caption کان کے علاقے میں ایک بڑی ڈرل کے ذریعے بھی کام جاری ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے چلی کی ایک کان میں پھنسے ہوئے کان کنوں سے کہا ہے کہ وہ دن اور رات میں نیند لینے کی ترتیب میں باقاعدگی پیدا کریں۔

چار ماہرین پر مشتمل ناسا کی ٹیم کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے کان کنوں کو چاہیے کہ وہ غذائیت کو بہتر کرنے کے لیے وٹامن ڈی کی مقدار اور ورزش کے اوقات کو بڑھائیں۔

چلی کے یہ کان کن ایک چٹان گرنے کے باعث تقریباً ایک ماہ سے تئیس سو فٹ گہری سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ انھیں وہاں سے نکالنے کے لیے انجینئر جو متبادل سرنگ بنا رہے ہیں اس کی تکمیل میں دو سے چار ماہ لگ جائیں گے۔

چلی کی حکومت نے ناسا کے ماہرین کو وہاں آ کر یہ مدد دینے کی درخواست کی کہ وہ انھیں یہ بتائیں کہ جب تک پھنسے ہوئے کان کنوں کو نکالا نہیں جاتا اس وقت تک انھیں ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند رہنے میں کیا مدد دی جا سکتی ہے۔

اس سلسلے میں ناسا کے ماہر نفسیات ایل ہولینڈ نے کان کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اندر ہی ایک کمیونٹی ایریا بنایا جائے جہاں ہر وقت روشنی رہنی چاہیے۔

اس کے علاوہ ایک اور حصہ ایسا الگ کیا جانا چاہیے جہاں تاریکی رہے اور اس حصے کو سونے کے استعمال کیا جائے۔

ایک اور یعنی تیسرا حصہ کام یعنی کان کنی کے لیے مخصوص کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کان کو ان تین حصوں میں تقسیم کرنے کا مقصد پھنسے ہوئے لوگوں کی زندگی کے روزمرہ معمولات میں مصروف رکھنا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ پھنسے ہوئے کان کنوں میں سے ہر ایک کا وزن گزشتہ سترہ روز میں زندہ تلاش کیے جانے سے قبل بائیس پاؤنڈ تک کم ہوا ہے لیکن اس کے بعد سے انہیں تین مختلف سوراخوں کے ذریعے خوراک، دوائیں اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو انہیں پہلی بار گرم کھانا فراہم کیا گیا جو گوشت، مرغی اور چاولوں پر مشتمل تھا۔ اس سے قبل انھیں گلوکوز اور زیادہ تناسب والی پروٹین کی گولیاں دی جا رہی تھیں۔

Image caption امدادی کام رات دن کیا جا رہا ہے

ناسا کے ایک اور ماہر مائیکل ڈنکن کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے کان کنوں کے معمولات میں روزانہ کی ورزش کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق ’جب ہمارے خلا نورد خلا میں جانے والے ہوتے ہیں تو اس سے پہلے انھیں ورزشیں کرائی جاتی ہیں اسی طرح کان کن اگرچہ نیچے کان کنی بھی کر رہے ہیں لیکن ان میں غذائیت کو بہتر بنانے کے لیے ورزش بھی کرنی چاہیے‘۔

کان کنوں کو نکالنے کے لیے متبادل سوراخ بنانے کا کام شروع کیا جا چکا ہے اور گزشتہ پیر سے اب تک ایک سو تیس فٹ گہرائی تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے۔

اس کے علاوہ کان کنوں کو نکالنے کے دو اور متبادل منصوبوں پر بھی عمل جاری ہے۔

ان منصوبوں کی نگرانی کرنے والے انجینئر کا کہنا ہے کہ ایک اور سوراخ جس کے ذریعے امداد کرنے والوں اور نکالنے والوں کو مدد دی جائے گی اور اس سوراخ کو بنانے پر کام اتوار سے شروع ہو گا۔

اس کے علاوہ ایک اور منصوبے کے ذریعے اس راستے کو بڑا کیا جائے گا جس کے ذریعے اس وقت امداد دی جا رہی ہے تا کہ اس کے کچھ ایسے چیزیں بھی نیچے پہنچائی جا سکیں جو پیمائش میں بڑی ہیں۔

اسی بارے میں