کابل بینک، شیئر مالکان کی املاک ضبط

کابل بینک
Image caption کابل بینک افغانستان کا سب سے بڑا نجی بینک ہے

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مرکزی بینک نے کابل بینک کے چیئرمین، اور چیف ایگزیکٹیو سمیت بینک کے کلیدی شیئر ہولڈرز کے اثاثوں کو ضبط کرلیا ہے۔

جن افراد کے اثاثے ضبط کیےگئے ہیں ان میں ملک کے نائب صدر کے ایک بھائی بھی شامل ہیں۔

اس بینک کے تقریبا ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین کسمٹر ہیں اور دو ماہ قبل اس کے دو چیئرمین بدعنوانی کے الزامات کے سبب اسے چھوڑ گئے تھے تب سے بینک مشکلات سے دو چار ہے۔

اس میں پیسہ لگانے والے افراد پریشان ہیں اور پیسہ نکالنے کے لیے قطاروں میں لگے دیکھے گئے ہیں۔

کابل بینک افغانستان میں ملک کا سب سے بڑا نجی بینک ہے جس کی سکیورٹی کے لیے اس کی شاخوں پر پولیس کا پہرہ رہتا ہے۔

بینک کے چیئرمین شیر خان فارنود اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر خلیل اللہ فروز کے پاس اٹھائیس اٹھائیس فیصد شیئرز ہیں۔ ان افراد کے ساتھ بعض دیگر اہم شیئر مالکان اور بینک سے بھاری قرضہ لینے والوں کے اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔

صدر حامد کرزئی کے بھائی اور ان کے دو نائب صدور میں سے ایک کے بھائی کے پاس اس بینک کے بھاری شیئرز ہیں۔

محمد کرزئی کے اثاثے ضبط نہیں کیےگئے ہیں کیونکہ املاک کی رجسٹریشن ان کے نام نہیں ہے لیکن ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ نائب صدر محمد قاسم فہیم کے بھائی محمد حسین ان افراد میں شامل ہیں۔

مرکزی بینک نے کابل بینک کی حمایت کا اعلان کیا تھا اسی لیے اس نے ایسے سخت اقدامات کیے ہیں۔

اسی بارے میں