سری لنکا: آمریت کے خطرے کا خدشہ

مہندہ راج پکشا

سری لنکا میں ارکان پارلیمان اس قرارداد پر ووٹ ڈالنے والے ہیں جس سے صدر کو دو بار سے زیادہ انتخاب لڑنے کا موقع مل سکتا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں آمریت کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔

اس مجوزہ قرارداد کی منظوری سے صدر کو انتخاب کے لیے جودو بار کی معیاد ہے وہ ختم ہو جائے گی۔ اس آئینی ترمیم سے صدر کے اختیارات میں بھی زبردست اضافہ ہوگا۔

بدھ کو پارلیمان نے اس بل پر ووٹنگ کو منظوری دے دی ہے جس کے تحت دو تہائی اکثریت سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

حکومت کو اس بات کی توقع ہے کہ اسے اکثریت مل جائے گی۔ بدھ کو ہی وزیراعطم دسانائیک مدیانسلگے نے قرارداد پارلیمان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں غیر جمہوری کچھ بھی نہیں ہے۔

کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیوی لینڈ کا کہنا ہے کہ بعض اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹ کے لیے حکومت نے بعض ارکان پارلیمان کو دھمکی دی ہے اور رشوت سے کام لے رہی ہے لیکن حکومت نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت کمزور ’یونائیٹیڈ نیشنل پارٹی‘ کو پتہ ہے کہ اس کے کئی ارکان نے حکومت کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

ملک میں سول سوسائٹی کے کار کنان نے اس بدھ کو یوم سیاہ قرار دیا ہے اور عوام سے بطور احتجاج کالی پٹیاں باندھنے کو کہا ہے۔

ان کارکنان نے اس کے خلاف مزید احتجاج کا اعلان کیا ہے جس میں بہت سے لوگوں کے شرکت کا امکان ہے۔

اس کے برعکس حکومت حامی مظاہرین نے پارلیمان کے آس پاس ریلی کی ہے۔ انھوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کی حمایت میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔اکثر بینروں پر لکھا تھا : ’صدر زندہ آباد‘ اور ’ہمیں مضبوط صدر چاہیے‘۔

گزشتہ برس تمل باغیوں کی شکست کے بعد سے صدر راج پکشے سنہالا برادری میں بہت مقبول ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے جمہوریت اور مضبوط ہوگی۔

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو پھر صدر کو دو بار سے زیادہ انتخاب لڑنے کا موقع ملے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ دوہزار سولہ میں بھی وہ انتخاب لڑ سکتے ہیں۔

گزشتہ جنوری کے انتخاب میں صدر راج پکشے کو ایک اور مدت کے لیے صدارتی انتخاب میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

اسی بارے میں