موغادیشو ایئرپورٹ پر خودکش حملہ

Image caption شدت پسندوں کے پاس اسلامی ثقافت کو بندنام کرنے، لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت گردی کے علاوہ کسی کو دینے کے لیے ہے ہی کیا: صومالیہ کے وزیرِ اطلاعات

صومالیہ میں سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ خود کش بمباروں نے موغادیشو میں ملک کے اہم ترین ہوائی اڈے پر حملہ کر دیا جس سے فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

حملہ آوروں نے ہوائی اڈے پر کارروائی کے لیے دو گاڑیاں استعمال کیں۔ پہلی گاڑی ہوائی اڈے کے داخلے پر پہنچ کر دھماکے سے اڑ گئی لیکن کئی باغیوں نے اس موقع پر دوسری گاڑی سے باہر چھلانگیں لگا دیں اور فائرنگ شروع کر دی جس سے افریقی یونین کے امن اہلکار ہلاک ہوگئے۔

افریقی یونین نے کہا ہے کہ دو شدت پسندوں نے ایئرپورٹ ٹرمینل تک پہنچنے کی کوشش میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اہلکاروں اور عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والے تمام شدت پسند مارے گئ۔ ان کے علاوہ دو خواتین جو ہوائی اڈے کے داخلی دروازے کے باہر بھیک مانگ رہی تھیں، وہ بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس واقعے میں کتنے عام شہری مارے گئے ہیں۔ حکومت نے تصدیق کی ہے کہ تین افراد ہلاک ہوئے لیکن کچھ اہلکاروں نے کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ عینی شاہدین بھی یہی کہتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق صومالیہ کے پولیس اہلکار بھی اس حملے میں مارے گئے ہیں۔

صومالیہ کے وزیرِ اطلاعات عمر عثمان نے کہا ہے کہ الشباب تنظیم نے مسلمانوں کو رمضان کے مقدس میں کے اختتام پر پُرامن انداز میں عید منانے دینے کی اپیل نظر انداز کر دی۔ ’انھوں نے شہر میں ہر طرف جان بوجھ کر تشدد آمیز کارروائیاں کیں اور شہریوں اور فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ان لوگوں کے پاس اسلامی ثقافت کو بندنام کرنے، لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت گردی کے علاوہ کسی کو دینے کے لیے ہے ہی کیا۔ ‘

ایئرپورٹ حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ افریقی یونین کے فوجیوں نے حملہ آوروں کی پہلی گاڑی کو داخلے پر روک لیا تھا۔ تاہم یہ گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی جس کے بعد شدت پسند دوسری گاڑی میں وہاں پہنچے اور انھوں نے لوگوں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔

موغادیشو کا ایئرپورٹ دفاعی حکمتِ عملی کے تناظر میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے اور دارالحکومت کے ان چند حصوں میں شامل ہے جہاں کی سکیورٹی حکومت اور افریقی یونین کے فوجیوں کے حوالے ہے۔

حالیہ ہفتوں میں الشباب نے بغاوت کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ بدھ کو الشباب کے جنگجوؤں اور صومالی فوج میں جھڑپوں کے دوران گیارہ افراد مارے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ اس اسلامی گروپ کے مسلح افراد نے ایک ہوٹل پر دھاوا بول دیا تھا اور چار اراکینِ پارلیمان سمیت بتیس افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

الشباب حکومتِ وقت کا تختہ الٹ کر صومالیہ میں ایسی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے جہاں اس کے نقطۂ نظر سے اسلامی قانون کی تشریح کی جائے۔ الشباب اور کچھ اسلامی باغی گروپوں کا ملک کے بڑے حصوں پر کنٹرول ہے جبکہ حکومت کی عمل داری موغادیشو کے چھوٹے حصوں پر ہے۔

اسی بارے میں