سنکی پادری اور میڈیا

یہ کتنی عجیب و غریب سی بات ہے کہ وہ شخص جو دنیا کی سب سے ہائی ٹیک اور طاقتور فوج کا انچارج ہو ایک ایسے نا معلوم اور سنکی مبلغ کو فون کر کے اس سے اپیل کرنے پر مجبور ہو جائے جس کے پیرو کار کی تعدد شائد پچاس بھی نہ ہو۔

لیکن ہوا یہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے امریکی پادری جونز کو فون کیا اور یہ بات دہرائی کہ اگر جونز اپنے قرآن نذر آتش کرنے کے پسبلسٹی سٹنٹ پر قائم رہے تو اس سے امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرہ ہوگا۔ اور اس سے پہلے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر نے بھی ٹی وی کے ذریعے اس نا معلوم شخص سے اسی طرح کی اپیل کی تھی۔

شاید اسی دباؤ کے تحت پادری نے بالآخر اپنے احتجاج کے منصوبے کو ترک کر دیا۔ جونز نے یہ اعلان کیا کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ نیو یارک کے مجوزہ اور اب متنازع اسلامی مرکز کے امام نے نے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ اس کو گراؤنڈ زیرو یعنی گیارہ ستمبر کے حملوں کے مقام کے قریب نہیں قائم کریں گے۔

لیکن یہ جھوٹ نکلا۔ ہوا یہ تھا کہ فلوریڈا کے ایک مسلمان رہنما نے امام کی بیوی سے فون پر بات کی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ ان کے شوہر سنیچر سے پہلے ان سے نہیں مل سکیں گے۔ محض اس کی بنیاد پر پادری جونز نے یہ سمجھ لیا کہ مرکز کہیں اور بنایا جائے گا! اور اس سے انہیں اپنے فیصلے کا ایک جواز بھی مل گیا۔

اس سارے معاملے میں حیران کُن تو یہ بات ہے کہ کیسے ایک انتہا پسند پادری نے اپنے اس سنسنی خیز مجوزہ احتجاج کے ذریعے مغربی دنیا کے طاقتور رہنماؤں کو ان سے اپیلیں کرنے پر مجبور کیا اور اپنے ہی دھن پر کٹھ پتلیوں کی طرح نچایا۔

کیا اس میں قصور میڈیا کا ہے؟ اس میڈیا کا جس نے اس نا معلوم اور انتہا پسند شخص کو چوبیس گھنٹوں کی کوریج دی اور اتنا مشہور بنا دیا؟

یا کیا ان افراد کا قصور ہے جو اس انتہا پسند پادری سے بھی انتہا پسند میں آگے ہیں اور جو اس کے بے تکے احتجاج کے رد عمل میں اور پر تشدد کارروائیاں کرتے ہیں؟

یا کیا یہ جنرل پیٹریئس کا قصور ہے جن کے بیان کے بعد یہ معاملہ دنیا بھر کی شہہ سرخیوں میں آگیا؟

میں نہیں سمجھتا کہ جنرل پیٹریئس کو ذمہ دار ٹھہرانا صحیح ہے کیونکہ ان کو، رابرٹ گیٹس کو اور صدر اوباما کو اس بات کا احساس تھا کہ اس پادری کے سنسنی خیز احتجاج سے امریکہ کی افغانستان اور عالم اسلام کے حوالے سے تمام سٹریٹیجی تباہ ہو سکتی ہے۔

وہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ دشمن اسلام نہیں بلکہ بمبار اور قاتل افراد ہیں۔

لیکن نہ صرف اس احتجاج کا رد عمل پر تشدد اور خطرناک ہوتا بلکہ اگر یہ ہو جاتا تو اس حرکت کو ایک عالامت کے طور پر لیا جاتا، اور یہ اس بات کا ثبوت بتایا جاتا کہ امریکہ اسلام دشمن ہی ہے۔

بہتر تو یہ ہوتا کہ اس احتجاج کے بعد اس دھمکی کو ہم سب نذر انداز کرتے اور اس کی تشہیر نہ ہوتی لیکن آجکل کی ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی دنیا میں یہ کیسے ممکن ہوتا؟ ہم سب کو معلوم ہے کہ اگر فلوریّڈا میں اس احتجاج کی آگ جلا دی جاتی تو پوری دنیا میں نفرت کی ایک اور آگ جل جاتی کیونکہ یہ حرکت پوری دنیا میں براہ راست نشر ہوتی، ٹی وی، انٹر نیٹ اور ویڈیو فون کے ذریعے۔ اور پھر دونوں جانب کے شدت پسند اسے استعمال کرتے تہذیبوں کے تصادم اور نفرتوں کی اس جنگ میں جس کو وہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ معاملہ جیسے بھی سلجھا ہو اور ہمیں یہ جتنا بھی قابل اعتراض لگا ہو حقیقت یہ ہے کہ امریکی سیاستداں اس کے سوا کر بھی کیا سکتے تھے؟ اس نے جتنی بھی خراب مثال قائم کی ہو، یہ سیاستداں خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ کم از کم عالم اسلام کو اب یہ پیغام تو پہنچا ہوگا کہ ایسی حرکتیں امریکہ کی پالیسی نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی خواہش بلکہ امریکی رہنما ایسی حرکتوں کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں گھناؤنا سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں