اگلے انتخابات میں حصہ لوں گا‘

Image caption میرا پہلا دورِ اقتدار قانونی جواز کے بغیر تھا: جنرل مشرف

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے اعلان کیا ہے کہ وہ دو ہزار تیرہ میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیں گے۔

لندن میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹریو میں پاکستان کے سابق فوجی حکمران نے کہا کہ وہ اگلے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیں گے اور اس مقصد کے لیے مستقبل قریب میں ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔

جنرل مشرف نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں پاکستان کے لیے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے اور ان کا موازنہ پاکستان کے پچاس سالہ زندگی کے کسی دور سے بھی کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے فوجی حکمران نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھایا۔ جنرل مشرف نے تسلیم کیا کہ چونکہ ان کا اقتدار’ قانونی جواز‘ سے محروم تھا اس لیے وہ اپنی کوششوں میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

جنرل مشرف جو اقتدار سے علیحدگی کے بعد لندن میں سکونت اختیار کر چکے ہیں کہا کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کب پاکستان جائیں گے لیکن وہ یہ فیصلہ ضرور کر چکے ہیں کہ وہ ہر صورت اگلے انتخابات سے پہلے پاکستان میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واپسی کے لیے انہیں وہاں ایک مخصوص ماحول تیار کرنا ہے۔

جنرل مشرف نے کہا کہ وہ صدر یا وزیر اعظم بننے کےلیے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ پاکستان میں اپنے خلاف قائم مقدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ان کا باآسانی سامنا کر سکتے ہیں۔

اپنی مقبولیت کے حوالے سے جنرل مشرف نےکہا کہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ پاکستانی قوم کو اندھیروں اور مایوسی سے نکالنا چاہتے ہیں۔جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنا اعتماد کھو چکی ہے اور اسے امید دلانے کے لیے وہ دوبارہ سیاست میں آ رہے ہیں۔

جنرل مشرف نے کہا کہ وہ ملک میں ’راست‘ جمہوری کلچر پیدا کرنے چاہتے ہیں جو پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ’مصنوعی اور خیالی جمہوریت‘ سے ترقی نہیں کر سکتا۔

سابق فوجی حکمران نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ خاموش رہنے سے بہتر ہے کہ انسان مقابلہ کرے اور ہار جائے۔

اسی بارے میں