ترکی: فوجی دور کا آئین تبدیل

ترک رہنماء

ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم میں لوگوں نے انیس سو اسی کی دہائی میں فوج کے دور حکومت میں بننے والے آئین میں ترامیم منظور کر لی ہیں۔

ترکی کی برسراقتدار جماعت اے کے پی اسی کی دہائی میں فوجی حکمران کی طرف سے آئین میں کی جانی ترامیم کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریفرنڈم میں اٹھاون فیصد لوگوں نے مجوزہ آئینی پیکج کے حق میں ووٹ دیا۔

وزیر اعظم طیب اردوگان نے ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد کہا کہ مجوزہ آئینی پیکج سے ترکی میں جمہوریت مضبوط ہو گی اور قانون کی بالادستی ہوگی۔

مجوزہ آئینی پیکج کے مخالفین کا کہنا ہےکہ حکومت عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو سیکولر ترکی کی ضامن ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اے کے پی جس کی جڑین سیاسی اسلام میں ہیں، ریفرنڈم کی کامیابی اگلے سال ہونے والے انتخابات میں استعمال کرے۔ اے کے پی دو مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکی ہے۔

اے کے پی کے دور میں ترکی میں سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی آئی ہے۔ ترکی جو دو عشرے پہلے تک معاشی بحرانوں میں گھرا ہوا تھا اب وہ جی ٹونٹی ممالک کا ممبر بن چکا ہے اور اس معیشت دن بدن مضبوط ہو رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے بعد ترکی کا آئین یورپی یونین کے تقاضوں پر پورا اتر سکے گا۔

حکمران جماعت نے آئین میں چھبیس ترامیم تجویز کی ہیں۔ استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم زیادہ تر معمولی نوعیت کی ہیں جن کو زیادہ تر لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہو گا۔

ترکی کا موجودہ آئین فوج نے انیس سو بیاسی متعارف کروایا تھا۔ اس کے بعد سے آئین میں کئی بار تبدیلی کی گئی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ مجوزہ ترامیم کو عوام کے سامنے رکھا گیا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم رجپ طیپ اردگان تین ہفتوں سے آئینی ترامیم کی حمایت کے لیے ملک کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم اردگان کی جماعت اے کے پی کی کئی بار عدلیہ سے تکرار ہو چکی ہے جو اپنے آپ کو سیکولر نظام کی محافظ سمجھتی ہے۔

اسی بارے میں