ترک آئینی ریفرنڈم کے نتائج کا خیرمقدم

ترک رہنماء
Image caption آئینی ترامیم کے حق میں اٹھاون فیصد ووٹ ڈلے گئے

امریکہ اور جرمنی نے ترکی میں ہونے والے اس آئینی ریفرنڈم کے نتائج کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ترک عوام نے انیس سو اسّی کی دہائی میں فوج کے دور حکومت میں بننے والے آئین میں ترامیم کی حمایت کی ہے۔

ترکی کی برسراقتدار جماعت اے کے پی اسی کی دہائی میں فوجی حکمران کی طرف سے آئین میں کی جانی ترامیم ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ریفرنڈم میں اٹھاون فیصد لوگوں نے مجوزہ آئینی پیکج کے حق میں ووٹ دیا۔

ترک آئینی ریفرنڈم: سوال و جواب

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے بعد ترکی کا آئین یورپی یونین کے تقاضوں پر پورا اتر سکے گا۔

وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد کہا کہ مجوزہ آئینی پیکج سے ترکی میں جمہوریت مضبوط ہو گی اور قانون کی بالادستی ہوگی جبکہ مجوزہ آئینی پیکج کے مخالفین کا کہنا ہےکہ حکومت عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو سیکولر ترکی کی ضامن ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ریفرنڈم کے نتائج کے بعد ترک وزیراعظم کو فون کیا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے ’ ترک جمہوریت کے جوش کو سراہا جس کا مظاہرہ ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج میں ظاہر ہوا ہے‘۔

ادھر جرمن وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ ریفرنڈم ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کے لیے انتہائی اہم تھا۔ اپنےایک بیان میں وزیرِ خارجہ ویسٹرویل کا کہنا تھا کہ وہ ’معاشرے سے ریاست میں طاقت کے توازن کے بارے میں رائے لینے کے اس رجحان کا خیرمقدم کرتے ہیں‘۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اے کے پی جس کی جڑیں سیاسی اسلام میں ہیں، ریفرنڈم کی کامیابی اگلے سال ہونے والے انتخابات میں استعمال کرے گی۔ اے کے پی دو مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکی ہے۔

اے کے پی کے دور میں ترکی میں سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی آئی ہے۔ ترکی جو دو عشرے پہلے تک معاشی بحرانوں میں گھرا ہوا تھا اب وہ جی ٹونٹی ممالک کا ممبر بن چکا ہے اور اس معیشت دن بدن مضبوط ہو رہی ہے۔

Image caption حکمران جماعت نے آئین میں چھبیس ترامیم تجویز کی ہیں۔

حکمران جماعت نے آئین میں چھبیس ترامیم تجویز کی ہیں۔ استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم زیادہ تر معمولی نوعیت کی ہیں جن کو زیادہ تر لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہو گا۔

ترکی کا موجودہ آئین فوج نے انیس سو بیاسی متعارف کروایا تھا۔ اس کے بعد سے آئین میں کئی بار تبدیلی کی گئی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ مجوزہ ترامیم کو عوام کے سامنے رکھا گیا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم رجپ طیپ اردگان تین ہفتوں سے آئینی ترامیم کی حمایت کے لیے ملک کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم اردگان کی جماعت اے کے پی کی کئی بار عدلیہ سے تکرار ہو چکی ہے جو اپنے آپ کو سیکولر نظام کی محافظ سمجھتی ہے۔

.

اسی بارے میں