کشمیر ہلاکتیں، بھارت کا اندرونی معاملہ

Image caption کشمیر میں کئی ہفتوں سے مظاہروں اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے

امریکہ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی عوامی شورش اور ریاستی تشدد میں درجنوں شہری ہلاکتوں پر پہلی مرتبہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی موقف یہ ہے کہ کشمیر میں تشدد ختم اور امن قائم ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ بھارتی کشمیر میں جون سے شروع ہونے والی عوامی تحریک میں اب تک سو کے قریب مظاہرے ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر مظاہرین پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے نتیجے میں اب تک اٹھاسی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ وادی میں کئی ہفتوں سے جاری عوامی مظاہروں، تشدد اور کرفیو کے باعث حالات سنگین ہوچکے ہیں۔

کشمیر میں جاری مظاہرے اور ہلاکتیں بھارت اور پاکستان کے اخبارات کی سرخیوں کا موضوع بن رہی ہیں۔ تاہم امریکی انتظامیہ اس کو بھارت کا اندرونی معاملہ سمجھتی رہی ہے اور اس پر بیان دینے سے گریز کرتی رہی ہے۔

بدھ کو پہلی بار امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں جاری عوامی تحریک بھارت کا ایک داخلی معاملہ ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کی امریکہ کشمیر میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتا ہے ’ہم حکّام پر تشدد ختم کرنے اور قیام امن پر زور دے رہے ہیں۔‘

امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ خطّے میں امن چاہتا ہے.

اس سے قبل بھارت میں امریکی سفیر نے دہلی میں اپنے ایک بیان میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر میں امن قائم کرنے پر زور دیا تھا.

واضح رہے کہ بھارت کے دارلحکومت دہلی میں بدھ کو ایک کل جماعتی اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا گیا تھا کہ حالات کا جائزہ لینے کےلئے ایک کل پارٹی وفد کشمیر جائے گا۔

ریاست میں لوگوں کے کیا مطالبات ہیں اور انکو کیسے پورا کیا جائے یہ وفد کے جائزے کے بعد طے کیا جائے گا۔

اسی بارے میں