اسرائیل، فلسطین سنجیدہ معاملات پر گفتگو

مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی ایلچی جارج مچل کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر اور اسرائیل کے درمیان بنیادی اور متنازعہ ترین معاملات پر سنجیدہ گفتگو ہوئی ہے۔ مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں اسرائیلی اور فلسطینی راہنماؤں کے درمیان متنازعہ امور طے کرنے کے لیے امریکہ کی وساطت سے مذاکرات ہورہے ہیں۔ دو ریاستوں کے قیام کی تجویز پر ہونے والے مذاکرات کا یہ دوسرا دور ہے۔ اس سے پہلے فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیر اعظم نیتن یاہو واشنگٹن میں بات چیت کر چکے ہیں۔

سہ فریقی مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد مصر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میزبان مصر کے وزیر خارجہ احمد عبل غیث نے کہا کہ فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران یہودی ریاست کے قیام کا معاملہ بھی زیر بحث آیا لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ مذاکرات کی ابتدا ہے۔ یہ دونوں فریقوں کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنے اپنے مؤقف کا تعین کر لیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش نہ کی جائے

مذاکرات میں شامل مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی جارج مچل نے کہا کہ فریقین نے مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شامل ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد دو ریاستی فارمولے پر عمل یقینی بنانے ہے اور امریکہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔

مصر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی خصوصی ایلچی جارج مچل نے کہا کہ ’امریکہ مذاکرات میں شامل فریقوں کی ہر طرح سے حمایت کرتا ہے۔ ہم ان مذاکرات میں فعال اور پائیدار حصہ دار کے طور پر موجود رہیں گے۔ ہم مشکل فیصلے کرنے میں فریقین کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘ امریکی وزیر خارجہ بھی ان مذاکرات میں شامل رہیں گی۔ مصر پہنچنے سے قبل انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

بات چیت سے پہلے ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر پر لگی پابندی کی مدت میں مزید توسیع کرے۔ یہ ڈیڈ لائن اس ماہ کی چھبیس تاریخ کو ختم ہورہی ہے۔

فلیسطین کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات سے ’واک آؤٹ‘ کرے گا اگر اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر دوبارہ شروع کرتا ہے۔

اتوار کو اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ہزاروں گھر جن کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا شاید انکی تعمیر نہ ہو لیکن تعمیراتی کام پر لگی روک ہٹاجاسکتی ہے۔

انکا کہنا تھا ’ہم وہاں رہنے والوں کی زندگیاں روک نہیں سکتے‘۔

فلیسطین کی طرف سے اہم مذاکرات کار سائب اراکات کا کہنا تھا ’اگر اسرائیل تعمیراتی کام کرتا ہے تو امن مذاکرات کا مقصد ختم ہوجاتا ہے اور اس کے لیے صرف اسرائیل ذمہ دار ہوگا‘۔

فلیسطین اور اسرائیل کےدرمیان ان مذاکرات کے بعد یروشلم میں سہ فریقی بات چیت ہونی ہے۔

شرم الشیخ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جو صورتحال ہے اس میں دونوں ملکوں کے لیے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا مشکل لگتا ہے ۔

اسی بارے میں