بستیوں کی تعمیر کے مسئلے پر’پیش رفت‘

مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی ایلچی جارج مچل کا کہنا ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے تازہ دور میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے مسئلے پر پیش رفت ہوئی ہے۔

جارج مچل کے کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں فریقین کے درمیان یروشلم میں براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔

جارج مچل نے کہا کہ ’میں کہہ سکتا ہوں کہ دونوں رہنما مشکل مسائل کو اپنی بات چیت کے آخر تک نہیں چھوڑ رہے ہیں، اس سے ہمیں ایک مضبوط اشارہ ملتا ہے کہ ان کا یقین ہے کہ امن ممکن ہے۔‘

مذاکرات کے موقع پر فلسطین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر جزوی پابندی میں توسیع نہیں کی جاتی ہے تو وہ مذاکرات سے علیحدہ ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل نے ابھی تک بستیوں کی تعمیر پر پابندی کی تاریخ میں توسیع کرنے سے انکار کیا ہے۔ تعمیر پر پابندی رواں ماہ کی تیس تاریخ کو ختم ہو رہی ہے۔

یروشلم میں اسرائیلی اور فلسطینی راہنماؤں کے درمیان متنازعہ امور طے کرنے کے لیے امریکہ کی وساطت سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔اس سے پہلے دونوں فریقین کے دمیان بیس ماہ کے تعطل کے بعد واشنگٹن میں براہ راست مذاکرت کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

منگل کو مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں اسرائیلی اور فلسطینی راہنماؤں کے درمیان متنازعہ امور طے کرنے کے لیے امریکہ کی وساطت سے مذاکرات ہوئے۔ دو ریاستوں کے قیام کی تجویز پر ہونے والے مذاکرات کا یہ دوسرا دور تھا۔ شرم الشیخ سے پہلے فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیر اعظم نیتن یاہو واشنگٹن میں بات چیت کر چکے ہیں۔

مصر کے سیاحتی مقام شرم شیخ میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے درمیان سہہ فریقی مذاکرات کے بعد یہودی بستیوں کی تعمیر کے مسئلہ پر کسی تصفیے کی کوئی خبر سامنے نہیں آ سکی تھی۔

تاہم جارج مچل نے ان مذاکرات کو جامع، معنی خیز اور سنجیدہ قرار دیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ فریقین کا رویہ مثبت ہے۔

بات چیت سے پہلے ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر پر لگی پابندی کی مدت میں مزید توسیع کرے۔

اتوار کو اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ہزاروں گھر جن کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا شاید ان کی تعمیر نہ ہو لیکن تعمیراتی کام پر لگی روک ہٹائی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم وہاں رہنے والوں کی زندگیاں روک نہیں سکتے‘۔

فلسطین کی طرف سے اہم مذاکرات کار سائب اراکات کا کہنا تھا ’اگر اسرائیل تعمیراتی کام کرتا ہے تو امن مذاکرات کا مقصد ختم ہوجاتا ہے اور اس کے لیے صرف اسرائیل ذمہ دار ہوگا‘۔

واضح رہے کہ انیس سو اڑسٹھ میں مشرقی یروشلم اور غرب اردن پر اسرائیل کے قبضے کے بعد اس مقبوضہ علاقے میں ایک سو کے قریب یہودی بستیاں قائم ہیں جن میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے تحت ان بستیوں کو غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے لیکن اسرائیل اس کو تسلیم نہیں کرتا۔

اسی بارے میں