افغانستان میں آج پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں

Image caption انتخابات کے دوران طالبان نے تشدد کی د ھمکی دی ہے

افغانستان میں آج اٹھارہ ستمبر کو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ووٹنگ منصفانہ اور آزادانہ طریقے سے منعقد کروانے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں تاہم افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائیندہ رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ افغانستان میں شفاف انتخابات ممکن نہیں۔

پارلیمان کے ایوان زیریں کی 249 نشستوں کے لیے رائے شماری ہوگی۔ جن کے لیے لگ بھگ 2500 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 406 خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔

تشدد کی دھمکیوں کے باوجود افغان صدر حامد کرزئی نے جمعے کے روزتمام افغانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں پر جائیں۔

گزشتہ سال کے متنازع صدارتی انتخابات اور اس میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کے بعد اب حکومت اور افغانستان میں بین الاقوامی مشن کے لیے ان انتخابات کی کامیابی بہت اہم بن گئی ہے اور ان کی کامیابی افغانستان کے صدر کرزئی کی ساکھ اور ملک کے لیے امید کی ایک کرن بتائی جا رہی ہے۔

شیڈول کے مطابق افغانستان کے پارلیمانی انتخابات بائیس مئی کو ہونا تھے، تاہم پارلیمانی انتخابات کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے ملتوی کئے گئے کیونکہ مغربی ممالک نے انتخابات کےلئے فنڈز جاری نہیں کیئے تھے ۔

مغربی ممالک کاکہناتھا کہ افغان حکومت پہلے اصلاحات کرے تاکہ انتخابات میں دھاندلیوں کو روکا جاسکے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پارلیمانی انتخابات پر150 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔

اسکے باوجود متعدد ذرائع نے اس امر کی عینی شہادتیں پیش کی ہیں کہ ہفتے کے پارلیمانی انتخابات میں جعلی ووٹنگ کے لیئے ہزاروں کی تعداد میں جعلی شناختی کارڈ تیار کیئے گئے ہیں۔

دارالحکومت کابل کی بڑی شاہراہوں پر پولیس کے اضافی ناکوں اورکاروں کی جانچ پڑتال کے باعث زیادہ تر خاموشی نظر آ رہی ہے۔

انتخابی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ پولنگ اسٹیشن سیکیورٹی کی خراب صورت حال کے باعث نہیں کھولے جائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق نیٹو فورسز نے الیکشن کے موقع پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے سلسلے میں کئی عسکریت پسندوں کو یا تو گرفتار یا پھر ہلاک کردیا ہے۔

حکام کے مطابق طالبان نے ملک میں پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ایک امیدوار سمیت 19 انتخابی کارکنوں کو اغوا کرلیا ہے۔

مشرقی صوبے لغمان میں انتخابی امیدوار کے اغوا کی ذمہ داری عسکریت پسند وں نے قبول کی ہے۔شمال مغربی صوبے بادغیث سے ملنے والی خبروں کے مطابق وہاں سے انتخابات سے متعلق آٹھ عہدے داروں اور انتخابی مہم چلانے والے دس کارکنوں کو اغوا کرلیا گیا ہے۔

ملک بھر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل ہی طالبان عسکریت پسند کم از کم تین امیدواروں اور کئی انتخابی کارکنوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اس موقع پر ملک بھر میں حملے کریں گے جیسا کہ انہوں نے گذشتہ سال صدارتی الیکشن ووٹروں میں خوف زدہ کرنے کے لیے کیے تھے۔

Image caption ووٹنگ کے دوران سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں

انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے افغان حکومت نے ڈھائی لاکھ سے زیادہ پولیس اہل کاروں اور فوجیوں کو تعینات کیا ہے، جنہیں بین الاقوامی فورسز کی مدد حاصل ہے۔

جمعے کے روز افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے ہال بروک نے اسلام آباد میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے پارلیمانی انتخابات کے شفاف انعقاد کا امکان کم ہے کیونکہ جنگ کے دوران ایسے الیکشن کرانا جو مکمل طورپر شفاف ہوں، بہت مشکل ہے۔

رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ انھیں اُمید ہے کہ افغانستان میں ہفتہ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوں گے لیکن وہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ ایک نا قص عمل ہوگا کیوں کہ ایک ایسے وقت جب ملک حالت ِ جنگ میں ہے اور طالبان کے حملے بھی جاری ہیں ایک مکمل طور پر شفاف انتخابی عمل کا انعقاد ممکن نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کے انتخابات ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے کیوں کہ ہر نشست کے لیے دس دس امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

ہالبروک نے کہا کہ امریکہ انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اتحادی فوجیوں کو ووٹروں اور پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا جا چکا ہے ۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ انتخابات مکمل طور پر قابل اطمنان نہیں ہوں گے کیوں کہ ان میں وسیع پیمانے پر دھاندلیوں کے الزامات لگیں گے۔

ان کا کہنا تھا ’ لیکن کیا ان انتخابات کے نتیجے میں افغانستان میں استحکام آئے گا، میرے خیال میں اس کے لیے صرف انتخابات کافی نہیں بلکہ اس کا انحصار منتخب ہونے والی پارلیمان پر ہو گا اور یہ عمل آئندہ سال کے اوائل سے پہلے پورا نہیں ہوگا۔‘

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کا عوام پر کچھ زیادہ اثر و رسوح نہیں ہے۔ اور انتخابات کے بعد نسلی دھڑے بندیاں ہی اہم کردار ادا کریں گیں۔

امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ افغانستان میں عام انتخابات کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے انہوں نے مناسب منصوبہ بندی کررکھی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ" یہ انتخابات گزشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں زیادہ شفاف اور قابل اعتماد شکل میں کروائے جائیں گے"۔

رائے دہندگان کی تعداد دس اعشاریہ پانچ ملین ہے ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پانق سے سات ملین کے درمیان ووٹروں کا پڑنا کامیابی تصور کیا جائیگا۔

اسی بارے میں