افغان انتخابات، اغوا کی وارداتیں

افغانستان
Image caption سکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں خود کش حملہ آووروں اور شورشیوں کو روکنے کے لیے اضافی نگراں چوکیاں بنائی ہیں۔

افغانستان میں سنیچر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دو امیدواروں کے علاوہ اٹھارہ انتخابی اہلکاروں اور کارکنوں کو اغواء کر لیا گیا ہے۔

شک کیا جا رہا ہے کہ مغربی صوبہ ہرات اور مشرقی صوبہ لغمان سے اغوا کیے جانے والے ان متوقع ارکان پارلیمان کو طالبان نے اغواء کیا ہے۔

طالبان نے پہلے سے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ سنیچر کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور ووٹروں پر حملے کریں گے۔

سکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں خود کش حملہ آوروں اور شورشیوں کو روکنے کے لیے اضافی نگراں چوکیاں بنائی ہیں۔

افغانستان میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا ولسی جرگہ کی دو سو انچاس نششتوں کے لیے دو ہزار پانچ سو امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے جمعہ کو امیدوار ماولی حیات اللہ کو صوبہ لغمان سے اغوا کیا ہے۔اس کے علاوہ اطلاع ملی ہے کہ بدھ کو ایوان زیریں کے امیدوار سیف اللہ مجددی کو نامعلوم مسلح افراد نے صوبہ ہرات میں اغوا کیا ہے۔

شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جمعرات کو شمال مغربی صوبہ بادش میں اٹھارہ انتخابی اہلکاروں کو بھی اغوا کیا ہے۔

طالبان نے ووٹروں سے بھی کہا ہے کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور بقول ان کے ’جہاد کا ساتھ‘ دیں۔

انتخابات کے عبوری نتائج بائیس ستمبر کو اور حتمی نتائج اکتیس اکتوبر کو اعلان کیے جائیں گے۔

گزشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات پر الزام لگا تھا کہ بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے۔ ان انتخابات میں صدر حامد کرزئی نے کامیابی حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں