فائدہ ہوگا مگر زیادہ نہیں

Image caption یورپی رہنماوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک محدود وقت کے لیے پاکستان کی اہم برآمدات پر ڈیوٹی کو کم کر دیا جائے۔

یورپی یونین کے اجلاس میں پاکستان کی برآمدات کو یورپی منڈیوں میں تجارتی سہولیات فراہم کرنے پر اصولی اتفاق کے بعد پاکستانی تاجروں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کو تجارتی آسانیاں فراہم کرنے کا مقصد حالیہ سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں اور نقصانات کے بعد پاکستان کو مالی مشکلات سے نمٹنے میں مدد دینا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی تجارت کو سہولیات دینے کے اعلان کے اقدام کو تاجروں نے سراہا لیکن ان کے بقول ابھی صرف منظوری کا اعلان ہوا ہے اور ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ پاکستان کی کون سی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں کتنی رعایت دی جارہی ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالمجید حاجی محمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت پر یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی سہولیات کے سبب کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ ان کے بقول منظوری دیے جانے کے بعد ابھی لائحہ عمل نہیں طے کیا گیا ہے کیونکہ یورپی یونین کو خطے کے دیگر ممالک جن میں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا شامل ہیں ان کے مفادات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہے۔

کراچی چیمبر کے صدر کا کہنا ہے کہ کپاس کی مصنوعات پر یورپی ممالک میں درآمدی ڈیوٹی میں رعایت دینے کی بات کی جارہی ہے اور اس سے پاکستان کو پچاس ملین یورو کا فائدہ ہوسکتا ہے تاہم کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث نئے روزگار کے مواقع بہت زیادہ پیدا نہیں ہوسکیں گے۔

ان کے بقول ’یہ سمجھنا کہ اس سے پاکستانی معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا، ہماری غلط فہمی ہوگی’۔

کراچی چیمبر کے سابق صدر اور تاجر انجم نثار نے کہا کہ یورپی یونین نے ٹیرف میں رعایت کی بات کی ہے، زیرو ریٹنگ ٹیرف کی بات نہیں کی، جس کا پاکستان، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن ہونے کے ناتے، سن دوہزار چودہ میں اہل ہوجائےگا، اور وہ بھی اس صورت میں کہ جب پاکستان سیاسی اور انسانی حقوق کے معیارات کو پورا کرنے کے قابل ہوگا۔

انجم نثار کا کہنا ہے کہ ’حکومت کے بقول یورپی یونین کے اس اقدام سے ملک کو تین سو سے چار سو ملین ڈالر کا تجارتی منافع ہوسکے گا تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ملک کی برآمدات بڑھنے کے باوجود ایک سو سے ڈیڑھ سو ملین ڈالر کا تجارتی منافع ہی ممکن ہوگا’۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین جن مصنوعات کی درآمدی ڈیوٹی پر رعایت دے رہا ہے ان کی تعداد تیرہ ہے اور ان میں کوئی بھی ایسی چیز شامل نہیں کی گئی جو ویلیو ایڈڈ ہو، جن میں لیدر مصنوعات یا ٹیکسٹائل میں ویلیو ایڈڈ گارمنٹ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں یارن اور باتھ روب وغیرہ شامل کیے گئے ہیں جن کی اتنی زیادہ طلب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یورپی یونین میں برآمدات کے لیے پیش کی گئی تجویز کو ابھی اکتوبر میں WTO سے بھی منظوری لینی ہے جہاں ہمارے مقابلے میں شامل ممالک، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی موجود ہیں اور اگر انہوں نے اعتراض نہیں کیا تو اس تجویز کو منظور کیا جاسکے گا۔

ان کے بقول اگر اِن ممالک سے مشورہ کیے بغیر پاکستان کی برآمدات کو سہولیات دی گئیں اور ان میں سے ایک بھی ملک نے قانونی چارہ جوئی کی تو یہ پاکستان کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔

انجم نثار کے خیال میں بھی یورپی یونین کی رعایت سے پاکستان کی معیشت پر کوئی بہت زیادہ مثبت اثر نہیں پڑے گا لیکن ان کے بقول یہ پھر بھی قابلِ ستائش اقدام ہے جس سے پاکستان کی برآمدات میں تھوڑا ہی سہی، اضافہ ضرور ہوگا۔

لاہور چیمپر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن اور گارمنٹ مصنوعات کے تاجر شہزاد اعظم خان نے کہا کہ پاکستان سے یورپی ممالک کو برآمدات تو اب بھی ہورہی ہیں تاہم اس میں مقابلے کا رجحان اس لیے نہیں ہے کیونکہ پاکستانی مصنوعات پر یورپی ممالک میں درآمدی ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے جبکہ بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش پر یہ ڈیوٹی صفر ہے۔

شہزاد اعظم خان کے بقول یورپی یونین کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا ہے وہ خوش آئند ہے اور اس سے پاکستان کی معیشت کو بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت کے ملنے کے تین ماہ کے اندر یورپی یونین کے لیے پاکستانی برآمدات تیس فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔

کراچی چیمپر کے ایک اور سابق صدر اور تاجر زبیر موتی والا نے پاکستانی برآمدات پر یورپی یونین کی جانب سے منظور کی جانے والی سہولت کو بہترین اقدام قرار دیا۔

ان کے بقول اگر یورپی یونین کی جانب سے رعایت اس قدر ملتی ہے جتنی بنگلہ دیش کی برآمدات کو دی گئی ہے تو اس سے بہتر کوئی اور بات نہیں ہوسکتی اور اس طرح امریکہ پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ بھی پاکستانی مصنوعات کی اپنے ملک میں درآمدات پر ڈیوٹی میں رعایت دے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ اگر یورپی یونین کی جانب سے منظور کی جانے والی سہولت نافذالعمل ہوتی ہے تو پاکستان کی نہ صرف برآمدات بڑھیں گی بلکہ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں آٹھ فیصد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے بقول ٹیکسٹائل کے شعبے کے ساتھ ملک کی شہری آبادی کا بیالیس فیصد حصہ منسلک ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے فی الحال گریز کیا کہ اِس سہولت سے تاجروں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہونے جارہا ہے۔ ان کے بقول ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کن چیزوں پر کتنی رعایت دی جارہی ہے لہذٰ، انہوں نے کہا کہ ابھی اس بارے میں تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

اسی بارے میں