عیسائیت کی اہمیت کم کی جا رہی ہے

لندن کے دورے پر آئے ہوئے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ بینڈکٹ شازدہم نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں عیسائی مذہب کی اہمیت کم کی جا رہی ہے۔

پوپ نے خبردار کیا کہ کچھ عناصر مذہب کی آواز کو خاموش کردینا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مسیحی عقائد رکھنے والوں کو اپنی قومی زندگی میں اپنے مذہبی اقدار کو سامنے رکھنا اور اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔

انھوں نے بات لندن کے ایک قدیمی گرجا گھر ’ویسٹ منٹر ایبے ‘میں اپنے تاریخی خطاب میں کہی ہے۔ اس تقریب میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، ، تمام سابق وزرائے اعظم، سینئر ارکان پالیمان اور عیسائی مذہبی رہنما موجود تھے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پوپ شازدہم کا پیغام بلکل واضح تھا کہ سیکولر نظریات کے لیے مذہبی عقیدے کو نہ دبایا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بہتر اور مہذب دنیا کے لیے عقیدے اور سیکولر نظریات دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ عورتوں کو پادری بنانے اور ہم جنسوں کے درمیان شادی جیسے معاملات پر پوپ بنیڈکٹ جو کٹر کیتھولک عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کے اور چرچ آف انگلینڈ کے درمیان اختلافات ہیں۔

چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹر بری نے کہا وہ معاشرے میں مذہبی برتری نہیں چاہتے۔

عیسائیوں کے روحانی پیشوا کا برطانیہ کا یہ دورہ اٹھائیس سال بعد ہو رہا ہے ان سے قبل پوپ جان پال دوم نے انیس سو بیاسی میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا۔ وہ ملکہ برطانیہ کی دعوت ہر آئے ہیں۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے چھ افراد کو پوپ بینیڈکٹ کے دورے کے لیے خطرے کے طور پر گرفتار کیا ہے۔ پوپ بینڈکٹ کی آمد پر برطانیہ میں خطرے کی سطح ’انتہائی‘ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سکیورٹی کے سربراہوں کی نظر میں حملہ ’انتہائی ممکنہ‘ ہے۔

انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے اہم پولیس افسران نے پوپ بینیڈکٹ کے دورے سے قبل دورے کی تفصیلات اور سکیورٹی انتظامات کی تیاری کی ہے اور خیال ہے کہ اس دورے کے انتظامات پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ ایک ملین پاؤنڈ سے بھی زائد ہو گا۔

اسی بارے میں