افغانستان: برطانوی فوج کاسنگین سےانخلاء

برطانوی فوجی
Image caption برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سنگین سے انخلاء کو انکی شکست نہ سمجھا جائے

افغانستان میں برطانوی فوج نے صوبہ ہلمند کے علاقے سنگین کا کنٹرول امریکی افواج کے حوالے کردیا ہے اور اس ساتھ ہی وہاں چار برس سے جاری اس کا مشن اختتام پر پہنچ گیا ہے۔

برطانوی افواج دو ہزار ایک سے سنگین میں موجود تھی اور اس دوران اس کے وہاں سب سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ دو ہزار ایک سے اب تک افغانستان میں تین سو سینتیس برطانوی فوجی ہلاک ہوئے جس میں ایک تہائی صرف سنگین میں ہلاک ہوئے ہیں۔

برطانوی فوج نے علاقے کا کنٹرول امریکی مرینز کے حوالے کیا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع ڈاکٹر لیام فوکس کا کہنا ہے کہ ’برطانوی فوجیوں کو اپنی کامیابی پر فخر ہونا چاہیئے۔‘

انکا کہنا تھا کہ ہلمند صوبے کا سنگین علاقہ افغانستان کے سب سے خطرناک علاقوں میں سے ایک تھا۔

انکا کہنا تھا کہ ہلمند صوبے میں برطانوی فوجیوں نے جو قربانی دی ہے وہ بہت زیادہ ہے۔

انکا کہنا تھا کہ سنگین سے نکلنے والی فوج کو مرکزی ہلمند میں تعینات کیا جائے گا جہاں وہ شدت پسندوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے علاوہ ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کی تعمیر کا کام جاری رکھے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بیشتر فوجی سنگین سے جا چکے ہیں لیکن آنے والے ہفتوں میں ایک باقاعدہ اجلاس میں امریکی فوج کو کنٹرول سونپا جائے گا۔

وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل گارڈن مسنجر کا کہنا ہے کہ علاقے کا کنٹرول امریکی فوج کو سونپنے کو انکی شکست نہ سمجھا جائے۔

برطانوی فوج کے صوبہ ہلمند سے نکلنے کے فیصلے سے ان خدشات کو ہوا ملے گی کہ برطانیہ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ برطانوی وزیرِ دفاع لیام فاکس پارلیمنٹ کو بتائیں گے کہ 2010 کے آخر تک برطانوی افواج کا سنگین کے علاقے سے مکمل طور پر انخلاء ہو جائے گا اور وہ اپنی توجہ صوبہ ہلمند کے مرکزی علاقے پر مرکوز کرے گی۔

برطانوی فوج کا اصرار ہے کہ اس کی افواج کا سنگین کے علاقے سے انخلاء اس کی پسپائی نہیں ہے بلکہ فوجی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکی افواج اس علاقے میں موجود ہیں تو بہتر ہے کہ وہ ہی سنگین کا کنٹرول بھی سنھبال لے۔

اسی بارے میں