غزہ: تحقیقاتی رپورٹوں پر تنقید

غزہ پر اسرائیلی حملے
Image caption غزہ پراسرائیلی کارروائی میں 1400 سے زیادہ فسلطینی مارے گئے تھے

اقوام متحدہ کے خصوصی پینل نے اسرائیل اور حماس پر یہ تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سنہ 2008 میں غزہ پر اسرائیلی چڑھائی کے دوران مبینہ جنگی جرائم کی مناسب طریقے سےتفتیش نہیں کی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تین رکنی پینل کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنی انکوائری میں صرف نچلے درجے کے افسران کے خلاف کارروائی کی جبکہ حماس نے اپنی انکوئری میں اس کے خلاف اقوام متحدہ کی انکوائری میں لگائے گئے الزامات کا نوٹس ہی نہیں لیا۔

پینل کے مطابق جسٹس رچرڈ گولڈسٹون کی سربراہی میں کی گئی انکوائری میں حماس کی غزہ میں ہونے والی اس لڑائی کے دوران کارروائیوں کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے گئے تھے لیکن حماس نے اپنی انکوائری میں ان پر روشنی ڈالنے یا ان کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔

اسی طرح مبینہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اسرائیل نے اسرائیلی فوج کے اعلی افسروں کی انکوائری نہیں کی۔

Image caption غزہ پر اسرائیلی حملے اور فوجی کارروائی بائیس دن تک جاری رہی

غزہ پر اسرائیلی چڑھائی دسمبر 2008 میں شروع ہوئی تھی اور بائیس دن تک جاری رہی۔ اس میں 1400 سے زیادہ فلسطینی اور 13 اسرائیلی مارے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس کارروائی میں پچاس ہزار گھر، آٹھ سو صنعتی پلاٹ اور دو سو سے زیادوں سکول تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔

اسرائیل کا دعوی تھا کہ اس نے غزہ پر یہ چڑھائی اسرائیل پر غزہ سے کیے جانے والے حملوں کو روکنے کے لیے کی تھی۔

اب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تین رکنی پینل نے اس لڑائی کی دونوں جانب سے کی گئی انکوائریوں میں خامیوں کی نشان دہی کی ہے اور انہیں غیر معیاری قرار دیا ہے۔ پینل کا کہنا ہے کہ صرف فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے قائم کی گئی انکوائری بین الاقوامی معیار پر پوری اتری۔

گولڈسٹون رپورٹ کی سفارشات کے مطابق اگر غزہ کے خلاف اسرائیل کی اس کارروائی پر اسرائیل اور حماس مناسب انکوائریاں نہ کر سکے تو اس معاملے کو دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت انصاف منتقل کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں