عافیہ صدیقی کو چھیاسی برس قید کی سزا

عدالت کا منظر

امریکہ میں پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کے جرم میں چھیاسی برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

انہیں وفاقی عدالت کی جیوری نے رواں برس فروری میں افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔

عافیہ نے جہاد کرنے پر زور ڈالا

استغاثہ نے ڈاکٹر عافیہ کو القاعدہ کا ہمدرد قرار دیا تھا اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں عمر قید کی سزا سنائی جائے۔

جمعرات کو عدالت کے سامنے اپنے بیان میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ان اطلاعات کی تردید کی جن کے مطابق جیل میں ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مفروضہ جھوٹ ہے جسے مسلم دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں خون خرابا اور کوئی غلط فہمی نہیں چاہتی۔ میں تو امن کے قیام اورجنگ کے خاتمے کی خواہاں ہوں‘۔

ڈاکٹر عافیہ کو جولائی دو ہزار آٹھ میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزاء رکھنے اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہونا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزاء اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت سے قبل ان کے وکلاء کا موقف تھا کہ وہ مقدمہ چلائے جانے کے لیے ذہنی طور اہل نہیں تاہم نفسیاتی معائنے کرنے والے ماہرین کے معائنہ جات اور آزادانہ رپورٹوں کے بعد فیصلہ دیا گیا تھا کہ ڈکٹر عافیہ صدیقی مقدمہ چلائے جانے کے لیے ذہنی طور اہل ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکہ کے ممتاز تعلیمی ادارے ایم آئی ٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں اطلاعات کے مطابق گیارہ ستمبر کو امریکہ میں ہونے والے حملوں کے سرغنہ خالد شیخ کے ایک عزیز سے شادی کر لی تھی۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے کہا ہے کہ عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی سزا امریکہ کو ہر طرح سے نقصان پہنچائے گی۔ ’اس سزا نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ جس انصاف کے نظام پر پوری دنیا میں فخر کرتا ہے وہ اب موجود نہیں رہا ہے، یہ اس کے زوال کی نشانی ہے۔‘

کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ انشااللہ وہ عافیہ کو واپس لیکر آئیں گے، ان کی رہائی کے لیے شروع کی گئی مہم اب ایک تحریک میں تبدیل ہوجائے گی۔

نامہ نگار کے مطابق دو روز قبل ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر رحمان ملک سے بھی ملاقات کی تھی، جس کے بعد وفاقی وزیر رحمان ملک نے امریکہ کو خط لکھ کر ڈاکٹر فوزیہ کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی پریس کانفرنس کے دوران پاسبان اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کی جانب سے امریکی ایوانوں میں ’آگ لگا دو‘ کے نعرے لگائے گئے، جس پر ڈاکٹر فوزیہ نے اعتراض کیا۔ عافیہ صدیقی کی جانب سے عدالت میں تشدد نہ ہونے کے بارے میں بیان پر انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ عافیہ سے یہ بیان زبردستی دلوایا گیا ہے۔

اس سے قبل کراچی میں پاسبان نامی تنظیم اور جماعت اسلامی کی شعبہ خواتین کی چند خواتین کارکنوں نے پریس کلب کے باہر جمع ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعد میں امریکی سفارتخانے کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے امریکی قونصلیٹ جانے والے تمام ہی راستوں کو بسوں، ٹینکروں کی مدد سے بند کردیا اور بھاری نفری تعینات کردی تھی مظاہرین کچھ رکاوٹ ہٹا کر آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگئے۔

اسی دوران ڈاکٹر فوزیہ اور حکام میں بات چیت ہوئی اور مذاکرات کے بعد ڈاکٹر فوزیہ کی قیادت میں ایک وفد نے امریکی قونصلیٹ کے عملے کو یادداشت نامہ پیش کیا۔

اسی بارے میں