غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے تحریک

شعیب خان کا خاندان
Image caption شعیب اور ان کے بیٹے کو ہمہ وقت جی پی ایس ٹریکر پہننا پڑتا ہے

اکیس سال سے امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکِ وطن خاندان کے سربراہ شعیب خان اور ان کے جواں سال بیٹے فراز کو ٹانگ پر ایک جی پی ایس آلہ پہننا پڑتا ہے جس کی مدد سےامریکی امیگریشن حکام ہر وقت ان کی حرکات و سکنات مانیٹر کرتے ہیں۔

ان سے روا اس سلوک کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان ہزاروں تارک وطن پاکستانیوں میں سے ہیں جو بغیر کسی امیگریشن دستاویزات کے امریکہ میں مقیم ہیں اور جنہیں امریکہ میں قانونی حیثیت دلانے کیلیے حال ہی میں نیویارک میں پاکستانی امریکیوں اور تارکین وطن نے پاکستان میں سیلاب کے وسیع تباہیوں کے پس منظر میں تحریک کا آغاز کیا ہے۔

شعیب خان اور ان کے اہلِ خانہ کے مصیبت کے دن تب شروع ہوئے جب دو ہزار آٹھ میں ان کا بیٹا فراز خان ماں باپ سے خفا ہوکر امریکی اميگریشن حکام کے پاس گیا اور شکایت کی کہ اس کے والدین اسے یہ نہیں بتاتے کہ اس کی اميگریشن حيثیت کیا ہے اور نہ ہی اسے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ یا آئي ڈي بنواکر دیتے ہیں۔

شعیب خان کی اہلیہ اور فراز کی والدہ حمیرہ شاہین کے مطابق ان کے بیٹے کے اس عمل کے بعد امیگریشن حکام کی چھان بین کے نتیجے میں ان تینوں کی امریکہ بدری کے احکامات جاری ہوگئے۔

یہی نہیں بلکہ شعیب جو کہ لیموزین ڈرائيور تھے، امیگریشن حیثیت کی وجہ سے اس کا ڈرائيونگ لائسنس رد کر دیا گيا اور وہ بیروزگار ہوگئے۔ فراز کو پڑھائي جاری رکھنے کے لیے ان کی امیگریشن حیثیت کی وجہ سے اچھے نمبر ہونے کے باوجود مطلوبہ مالی امداد نہیں مل سکی۔

حمیرہ شاہین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے حسن مجتبٰی کو بتایا کہ ان کے بیٹے فراز کو سکول میں اس کے ہم جماعت اور دوست ’ال لیگل‘ کہہ کر اس کا تمسخر اڑاتے تھے جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوگیا اور نفسیاتی معالج کے زیر علاج رہا۔

انتہائی غمزدہ دکھائی دینے والی حمیرہ شاہین کا کہنا تھا کہ وہ جب وہ اپنے بیٹے فراز خان کو پاکستان سے امریکہ لائی تھیں تو وہ آٹھ ماہ کا تھا اور اب فراز خان یہیں امریکہ میں پلا بڑھا اور پڑھ لکھ کر بیس سال کا ہوا تو اس کے

پیروں میں ’ال لیگل‘ کے طور پر برقی آلہ لگا دیا گیا ہے ۔

امریکی تارکین وطن کا یہ کنبہ اپنی بپتا سنانے کیلیے اس تحریک کی پریس کانفرنس میں بھی موجود تھا جو بغیر دستاویزات والے پاکستانی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دلوانے کے نام پر نیویارک سے شروع کی گئی ہے۔ تارکین وطن پاکستانیوں کی ایسی تحریک کی داغ بیل پہلے پہل ایک تارک وطن پاکستانی عبداللہ عابد نے ڈالی ہے جو بوسٹن میں ایک گیس سٹیشن پر کام کرتے ہیں۔

امریکہ میں بغیر امیگریشن دستاویزات والے تارکین وطن کو عارضی طور ہی سہی قانونی حیثیت دلانے کی تحریک کا آغاز کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جس طرح جنگوں، دہشتگردی اور قدرتی آفات میں سے متاثر ممالک لبنان، صومالیہ، ایل سلواڈور اور ماضی قریب میں ہیٹی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کیلیے امریکہ میں ’ٹمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس‘ قوانین بنائے گئے تھے تو ان پہلے سے ہی موجودہ قوانین کا فائدہ پاکستانی تارکین وطن کو کیوں نہیں ہو سکتا جن کے ملک کا پچیس فیصد حصہ سیلاب کے وسیع تباہ کاریوں کے نتیجے میں زیر آب آیا ہے اور ہر دسواں پاکستانی اس سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد پانچ سے دس لاکھ تک ہے جن میں سے ایک اندازے کے مطابق دس فیصد یا پچاس ہزار بغیر دستاویز والے تارکین وطن پاکستانی ہیں۔