’فلوٹیلا حملہ ناقابلِ قبول بربریت کا مظاہرہ‘

فریڈم فلوٹیلا
Image caption اسرائیلی فوج کی کارروائی میں نو افراد مارے گئے تھے

اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ جانے والے امدادی جہاز پر کارروائی کے دوران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز نے ناقابلِ قبول بربریت کا مظاہرہ کیا اور ان کے وہ اقدامات جن کے نتیجے میں نو افراد مارے گئے صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلیوں کے خلاف ’دانستہ ہلاکتوں‘ کا مقدمہ چلانے کے لیے واضح ثبوت موجود ہیں۔

اسرائیل اس بات پر مصر ہے کہ اکتیس مئی کو ہونے والی اس کارروائی میں اس کے فوجیوں نے اپنے دفاع میں کارروائی کی تھی۔

امدادی قافلے پر اسرائیلی چھاپے اور اس دوران فلسطین کے حامی نو ترک افراد کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر نے اسرائیل کی مذمت کی تھی اور اس کے ترکی سے تعلقات بھی انتہائی خراب ہوگئے تھے۔

چھپّن صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے پینل میں شامل تین عالمی ججوں نے کہا ہے کہ ’چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت، دانستہ قتل، تشدد اور غیر انسانی سلوک اور جسم اور صحت کو گہری چوٹ پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمات چلانے کے لیے واضح ثبوت موجود ہے‘۔

جنیوا کنونشن ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو کہ حالتِ جنگ میں شہریوں کے تحفظ کے بارے میں ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اس ’فیکٹ فائنڈنگ‘ مشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقے کا محاصرہ ’غیر قانونی‘ ہے کیونکہ اس علاقے میں انسانی بحران ہے۔

ادھر اس رپورٹ کے اجراء کے بعد اسرائیل نے اسے ایک جانبدار ادارے کی جانب سے جاری کردہ جانبدار اور یکطرفہ رپورٹ قرار دیا ہے۔ اسرائیل رپورٹ کے سامنے آنے سے قبل بھی حقوقِ انسانی کونسل کو جانبدار، سیاسی دباؤ کا شکار اور انتہاپسند قرار دے چکا ہے۔

اسرائیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی خود تحقیقات کر رہا ہے جو کہ ابھی جاری ہیں۔

اسی بارے میں