امریکہ:’نصابی کتابیں عیسائیت مخالف ہیں‘

Image caption اس قرارداد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ منحرف گروپس سے متوازن سلوک ہونا چاہیے: بورڈ سربراہ

امریکی ریاست ٹیکساس کے تعلیمی بورڈ کے چند قدامت پسند ممبران نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں استعمال ہونے والی نصابی کتابیں عیسائیت کی مخالف اور اسلام کے حق میں ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق بورڈ کے ان ممبران کا کہنا ہے کہ وہ نصابی کتابوں میں اس تعصب کی وجہ سے پریشان ہیں۔

یہ ممبران جمعہ کو ایک قرارداد پر ووٹنگ کرنے والے ہیں جس کا مقصد ناشرین کو ایک صاف پیغام پہنچانا ہے کہ اگر وہ امریکہ کی بڑی مارکیٹوں میں کتابیں فروخت کرنا چاہتے ہیں تو انھیں تاریخ کو اسلام کی حمایت اور عیسائیت کے خلاف پیش نہیں کیا کرنا چاہیے۔

ایجوکیشن بورڈ کی سربراہ گائل لو کا کہنا ہے کہ ’اس قرارداد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ منحرف گروپوں سے متوازن سلوک ہونا چاہیے۔ ماضی میں ٹیکسٹ بکس میں عیسائیت کے بارے میں کچھ تعصب ہوتا تھا۔‘

قرارداد میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹیکسٹ بکس کے مصنف عادتاً عیسائیت کو’ پرتشدد حملہ کرنے والے‘ یا ’حملہ آور‘ لکھتے ہیں جب کہ یورپ میں مسلم فتوحات کو ’ہجرت‘ کہا جاتا ہے۔

یہ قرار داد رینڈی ریورز نے لکھی اور پیش کی ہے جو اوڈیسہ میں سکول بورڈ کے ممبر ہیں۔انھوں نے گزشتہ موسم گرما میں سٹیٹ بورڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی بہت ساری کمپنیاں امریکہ کے پبلشنگ ہاؤسز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

امریکہ میں اسلام کی تصور سازی ایک جذباتی سیاسی مسئلہ بن گیا ہے، چند عیسائی قدامت پسندوں کا کہنا ہے کہ مذہب کے شدت پسند پہلووں پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے جس کو دہشت گردی اپنی کارروائیوں کے لیے جواز بناتے ہیں۔

موجود نزاع اس وقت شروع ہوئی جب گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کی برسی کے موقع پر فلوریڈا کے ایک پادری کی جانب سے قرآن جلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نائن الیون کے واقعے کی جگہ جسے گراؤنڈ زیرو کہا جاتا ہے کہ مقام پر مسجد اور کمیونٹی سینٹر کا مسئلہ۔

پیٹریشا ہارڈی جو تاریخ کی ٹیچر اور ریپبلکن ممبر ہیں کا کہنا ہے کہ نصابی کتابوں میں تعصب کے سوال پر مزید تحقیق کرنی چاہیے۔’ اگر آپ میرے سے پوچھیں تو ایک گروپ کی تحقیق پر تیارہ کردہ قرار داد نقصان دہ ہو سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں