امریکہ:عورت کو سزائے موت پر بحث

ٹیریسا لویس
Image caption امریکہ میں عام طور پر خواتین کو سزائےموت نہیں دی جاتی

امریکی ریاست ورجینیا میں ایک عورت کو سزائے موت دی جارہی ہے جو اس ریاست میں سن انیس سو بارہ کے بعد اور امریکہ میں پانچ سال میں یہ سزا پانے والی پہلی عورت ہو گی۔

ٹیریسا لویس کی متوقع سزائے موت دنیا بھر میں برطانیہ سے ایران تک خبر بن چکی ہے۔ ٹیریسا کا مقدمہ تین وجوہات کی بنیاد پر انوکھا ہے۔ لویس نے دو مردوں کے ساتھ مل کر اپنے خاوند اور سوتیلے بیٹے کےقتل کا منصوبہ بنایا تھا۔

لویس نے قاتلوں کے لیے اسلحہ خریدا اور گھر کے دروازے کھلے چھوڑ دیے تھے۔ انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ ان کے شریک جرم مردوں میتھیو شیلنبرگر اور راڈنی فلر کو صرف عمر قید سنائی گئی ہے۔

ٹیریسا کے وکلاء اور سزائے موت کی مخالفت کرنے والے افراد ان کے کم ’آئی کیو‘ کو بنیاد بنا کر کہہ رہے ہیں کہ ٹیریسا اس طرح کا منصوبہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

ٹیریسا کے وکلاء شیلنبرگر پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے قتل کا منصوبہ بنایا اور ٹیریسا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جس کے ساتھ ان کےتعلقات تھے۔ شیلنبرگر نے حراست کے دوران خودکشی کر لی تھی۔

تاہم ان تمام حالات اور واقعات کے باوجود لوگوں کی اس مقدمے میں دلچسپی ایک عورت کو سزائے موت ملنے کی وجہ سے ہے۔ امریکہ میں عام طور پر خواتین کو سزائے موت نہیں دی جاتی۔

امریکہ میں یکم جنوری انیس سو تہتر سے تیس جون دو ہزار آٹھ کے درمیان آٹھ ہزار ایک سو اٹھارہ لوگوں کو سزائے موت سنائی گئی تھی جن میں صرف ایک سو پینسٹھ خواتین تھیں۔ اسی عرصے میں ایک ہزار ایک سو اڑسٹھ لوگوں کو سزائے موت دی گئی جن میں صرف گیارہ خواتین تھیں۔

اوہایو یونیورسٹی کے پروفیسر وکٹر سٹرائب کا کہنا ہے کہ خواتین کو موت کی سزا انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے جبکہ دس سے بارہ فیصد بڑے جرائم ان سے مرتکب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جج کہہ دیا کرتے تھے کہ عورت کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی لیکن اب ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ پروفیسر سٹرائب نے کہا کہ اب بھی عورتوں کے بارے میں یہ سوچ قائم ہےکہ ان کے جرم کرنے میں ان کی ذہنی حالت کا ہاتھ ہے یا پھر وہ کسی مرد کے زیر اثر تھیں۔

ٹیریسا کی سزائے موت کی مخالفت کرنے والے ان کی کم ذہانت کو بنیاد بنا رہے ہیں۔ ٹیریسا کا آئی کیو سکور بہتر تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جن افراد نے قتل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا انہیں تو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں