’توجہ اب انحصار کے بجائے ترقی پر‘

Image caption دنیا کو بہتری دکھانا ہوگی: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے امداد اور ترقی سے متعلق اپنا طرز عمل تبدیل نہ کیا تو غربت کے خاتمے کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی نئے ملینئیم یا ہزاریے کے سماجی ترقی کے اہداف پر کانفرنس سے خطاب میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ترقی ساری دنیا کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی امداد کے حوالے سے تبدیل شدہ امریکی پالیسی کے تحت ’گڈ گورننس‘ اور تجارت اور سرمایہ کاری کے رحجان کی حوصلہ افزائی کر کے اقوامِ عالم کو غربت سے جان چھڑانے میں مدد دی جائے گی۔

براک اوباما نے کہا کہ ’لاکھوں لوگوں کو کئی عشروں تک خوراک مہیا کرنا ترقی نہیں انحصار ہے جس کو ختم ہونا چاہیے۔ غربت کا انتظام کرنے کے بجائے ہمیں دنیا کے لوگوں کو اس کے خاتمے کا راستہ دکھانا ہوگا‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ غریب ممالک کی مدد امریکہ کے قومی مفاد میں تھی اور امریکہ کروڑوں افراد کو غربت کے چنگل سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اب جبکہ ہزاریے کے ترقیاتی مقاصد تک پہنچنے میں پانچ برس رہ گئے ہیں دنیا کو بہتری دکھانا ہوگی‘۔

خیال رہے کہ سنہ 2008 میں اس ہزاریے کے آٹھ ترقیاتی مقاصد کا تعین کیا گیا تھا جن میں صحتِ عامہ کی سہولیات میں بہتری، تعلیم کا پھیلاؤ اور خواتین کو برابری کے حقوق کی فراہمی بھی شامل تھے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’اگر عالمی برادری وہی سب کچھ کرتی رہی جب اب تک ہوا ہے تو ہم کئی ترقیاتی مقاصد پورے نہیں کر پائیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاشی بحران کے باوجود دنیا کے غریب ممالک کی مدد کرنا امریکہ اور دیگر امیر اقوام کے اپنے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس عالمی معیشت میں غریب ممالک میں ہونے والی ترقی ان کی سرحدوں سے کہیں دور حتٰی کہ یہاں امریکہ میں خوشحالی اور سکیورٹی کی ضامن ہو سکتی ہے‘۔

براک اوباما نے کہا کہ’جب لاکھوں والد اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری نہیں کر سکیں تو اس سے وہ بے چینی پیدا ہوتی ہے جس سے عدم استحکام اور شدت پسندی کو ہوا ملتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اب امریکی امداد کا مقصد صرف مدد کرنا نہیں بلکہ قوموں اور لوگوں کو غربت کے خاتمے کی راہ دکھانا ہوگا۔ براک اوباما کے مطابق یہ طویل المدتی منصوبے کے تحت قوموں کی معیشت کو ترقی دے کر حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور گڈ گورننس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ رشوت ستانی کا قلع قمع کیا جائے گا۔ ’ہم جانتے ہیں کہ ان ممالک کی ترقی کے زیادہ امکانات ہیں جہاں حکومتیں اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم رشوت ستانی کے خلاف عالمی مہم میں پیش پیش ہیں‘۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی تقریر سے انکساری عیاں تھی جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امریکہ عالمی افق پر ایک رہنما کا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سب کی بات سننا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں