پائیدار امن، پاکستان سے مدد کی امید

پاکستانی سرحد کے قریب واقعے مشرقی افغانستان کے ایک اہم صوبہ غزنی کے گورنر محمد موسی خان اکبرزادہ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے پاکستان ایک بھائی کی طرح ان کے ملک میں پائیدار امن کے لیے مدد کرے گا۔

گورنر غزنی کا جو ایک وفد کے ساتھ پولینڈ کے حکام کے ساتھ تعاون بڑھانے کے یورپی دورے پر ہیں کہنا ہے کہ کرزئی حکومت نے تمام گورنروں کو مقامی سطح پر قیام امن کے لیے شدت پسندوں سے رابطوں کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔

یہ باتیں انہوں نے وارسا میں بی بی سی اردو سروس کے ہارون رشید کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیں۔

چار ماہ قبل افغانستان کے ایک مشکل صوبہ کا انتظام سنبھالنے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو قیام امن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق غیرملکی افواج کے انخلاء کی باتیں ابھی قبل از وقت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے صوبے میں نوا کے ضلع پر طالبان کا قبضہ ختم کرنے کے لیے جلد کارروائی کا آغاز کیا جائے گا تاہم انہوں نے اس بابت کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔ یہ ضلع پاکستانی سرحد سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقعے ہے اور یہاں افغان پولیس یا فوج ابھی قائم نہیں کی جاسکی ہے۔

گورنر غزنی صدر کرزئی کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دیے گئے جرگے کی کامیابی کے امکانات سے پرامید دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہے کیونکہ نہ طالبان اور نہ ہی امریکہ جنگ کے ذریعے مکمل کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔