فلسطینی امن کے لیے تیار ہیں:عباس

محمود عباس
Image caption اسرائیل سے امن معاہدے کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے:محمود عباس

فلسطینی رہنما محمود عباس کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ ایک جامع اور منصفانہ امن معاہدے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل کو امن اور یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

اسرائیل فلسطین امن مذاکرات بیس ماہ کے تعطل کے بعد رواں ماہ ہی شروع ہوئے ہیں لیکن فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے غربِ اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی کی مدت میں اضافہ نہ کیا تو وہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔

اس پابندی کی مدت اتوار کو ختم ہو رہی ہے۔ اسرائیل نے تاحال پابندی میں توسیع پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔

نیویارک میں بی بی سی کی نامہ نگار بریجٹ کینڈال کا کہنا ہے کہ فلسطینی رہنما نے کھلے الفاظ میں بستیوں کی تعمیر پر پابندی کی مدت میں اضافہ نہ ہونے کی صورت میں امن مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کی بات نہیں کی اور ایسا لگتا ہے کہ درپردہ اس معاملے میں سمجھوتے کی کوششیں زورشور سے جاری ہیں۔

انہوں نے اپنی تقریر میں فلسطینیوں کو اسرائیل سے جو شکایات ہیں ان کا بھی ذکر کیا۔ ان میں غزہ کی پٹی کا محاصرہ اور اسرائیلی جیلوں میں ہزاروں فلسطینیوں کی حراست شامل تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو ’خطرناک مسائل کا سامنا ہے جو انہیں تشدد اور تنازعات کی جانب دھکیل رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ پھیلاؤ اور دوسروں کو دبانے کی اس ذہنیت کا نتیجہ ہے جو اسرائیل کی پالیسیوں کو آج بھی کنٹرول کرتی ہے‘۔

.تاہم محمود عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلسطینی ایک برس کے دوران اسرائیل سے امن معاہدے کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے زخمی ہاتھ آج بھی مقبوضہ طاقت کے ہاتھوں اکھاڑے جانے والے درختوں کے ملبے میں دبی زیتون کی شاخ (امن کی علامت) کو پکڑنے کے لیے تیار ہیں‘۔

انہوں نے اس امر کا بھی یقین دلایا کہ وہ خطے میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر براک اوباما سے مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔ جمعرات کو امریکی صدر نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ بستیوں کی تعمیر پر عائد پابندی کی مدت میں اضافہ کرے کیونکہ ’اس سے حالات پر فرق پڑا ہے اور مذاکرات کا ماحول بہتر ہوا ہے‘۔

خیال رہے کہ چار لاکھ تیس ہزار سے زائد یہودی آبادکار غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں قائم ایسی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں جنہیں عالمی برادری غیر قانونی قرار دیتی ہے تاہم اسرائیل اس بات کو تسلیم نہیں کرتا۔

اسی بارے میں