چلی کے کان کنوں کو بچانے کے لیے پنجرہ

کان کنوں کو بچانے کےلیے بنایا گیا پنجرہ
Image caption اس پنجرے کی مدد سے کان کنوں کو باہر نکالا جائے گا

چلی کی ایک کان میں پھنسے ہوئے تینتیس کان کنوں کو زندہ بچانے کے لیے ایک سٹیل کا پنجرہ لایا گیا ہے جسے کان کے اندر بھیجا جائے گا۔ اس کوشش سے کان کنوں کے لواحقین بہت خوش ہیں۔

سٹیل کے بنے اس پنجرے سے کان کنوں کو ایک ایک کرکے کان سے باہر نکالا جائے گا۔

لیکن اس سے قبل کان کے اندر اتنا بڑا راستہ بنایا جائے گا جس سے یہ پنجرہ آسانی سے نکل جائے۔

اس پنجرے کی چوڑائی پچاس سینٹی میٹر سے تھوڑی زیادہ ہے۔ اس پنجرے میں کان میں پھنسے کان کنوں کے رشتہ داروں کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔

لمبا اور بہت پتلے اس پنجرے کو فینکس نام دیا گیا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ پنجرہ کان کنوں کو کان سے نکالنے میں میں کامیاب ہوگا۔

اس پنجرے کے افتتاح کے وقت کان کے قریب موجود کان کنوں کے لواحقین نے خوشی کا اظہار کیا۔

کیرولائن لوبوس کی عمر پچیس برس ہے اور انکے والد کان میں میں پھنسے ہیں۔ پنجرے میں انہیں داخل ہونے کا موقع ملا تھا۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا پنجرہ بہت پتلا لگتا ہے لیکن اندر سے بے حد آرام دہ ہے۔

اس پنجرے میں کان کنوں سے رابطے میں رہنے کے لیے کمیونیکشن آلات لگائے گئے ہیں اور آکسیجن کا بھی انتظام ہے۔

اس سے قبل امریکی خلائی ادارے ناسا نے کان کنوں کو ورزش کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دن اور رات میں نیند لینے کی ترتیب میں باقاعدگی پیدا کریں۔

چار ماہرین پر مشتمل ناسا کی ٹیم کا کہنا تھا کہ پھنسے ہوئے کان کنوں کو چاہیے کہ وہ غذائیت کو بہتر کرنے کے لیے وٹامن ڈی کی مقدار اور ورزش کے اوقات کو بڑھائیں۔

چلی کے یہ کان کن ایک چٹان گرنے کے باعث تقریباً ایک ماہ سے تئیس سو فٹ گہری سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں