’میں اپنی مرضی کا مالک ہوں‘

ایڈ ملی بینڈ
Image caption ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ مڈل کلاس کے لیے انصاف کی لڑائی لڑیں گے

برطانیہ میں لیبر پارٹی کے نو منتخب قائد ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ ان کی قیادت میں لیبر پارٹی کا جھکاؤ بائیں محاذ کی سیاست کی طرف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ لیبر یونینوں کے زیرِ اثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’اپنی مرضی کے مالک ہیں۔‘

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی سیاست میں وہ ’سینٹر‘ کی طرف مائل ہیں اور اپنے تخلص ’ریڈ ایڈ‘ کو انہوں نے لغو قرار دیا ہے۔

برطانیہ کے سابق وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ اپنے بھائی اور سابق وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کو ہرا کر لیبر پارٹی کے قائد منتخب ہوئے ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ مارکسسٹ دانشور رالف ملی بینڈ کے صاحبزادے ہیں اور لیبر پارٹی کے بیسویں صدر ہیں۔

حالانکہ ڈیوڈ ملی بینڈ کو لیبر پارٹی کے ممبر پارلمیان اور دیگر پارٹی ممبران کی جانب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ہیں لیکن ٹریڈ یونین کے درمیان مقبولیت کے سبب ایڈ ملی بینڈ کو جیت حاصل ہوئی۔

نتائج کے مطابق ایڈ ملی بینڈ نے پچاس اعشاریہ پینسٹھ فیصد جبکہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے انچاس اعشاریہ پینتیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔

لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے ہونے انتخابات میں سابق وزیر تعلیم ایڈ بالز تیسرے جبکہ سابق وزیر صحت اینڈی برنہم چوتھے نمبر پر رہے۔

بی بی سی کے ایک شو میں بات کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے اس بات کو مسترد کردیا کہ وہ پارٹی کو لیفٹ کی جانب لےجائیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ ’اس لیبل سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ اور میں اپنی قیادت کو اسی نظریے سے دیکھتا ہوں۔‘

حالانکہ انکا کہنا تھا کہ وہ بینکوں پر مزید ٹیکس کی سمت میں زیادہ کام کر سکتی ہیں۔

اپنے بھائی ڈیوڈ ملی بینڈ کے بارے میں انکا کہنا تھا ’مجھے لگتا ہے کہ انہیں یہ سوچنے کا وقت چاہیے کہ وہ پارٹی میں کس طرح سے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میرے خیال سے برطانیہ کی سیاست میں ڈیوڈ ملی بینڈ ایک اہم کردار ادا کرسکتےہیں۔‘

ایڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار حزب اختلاف کی جماعت کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا ’حکومت کی جانب سے کی گئی ہر ایک کٹوتی کی میں مخالفت نہیں کروں گا۔‘

ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ مڈل کلاس کے ساتھ ہونے والی نہ انصافیوں کے خلاف لڑیں گے۔

چالیس سالہ ایڈ ملی بینڈ پارٹی کی قائم مقام رہنما ہیریئٹ ہارمن کی جگہ لیں گی جنہوں نے سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن کے استعفے کے بعد یہ عہدے سنبھالا تھا۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ایڈ ملی بینڈ نے کہا تھا کہ ’آج سے ہم انتخابی دوڑ کو پیچھے چھوڑ کر ایک ٹیم کی طرح متحد ہو کر آگے بڑھتے ہیں۔‘

انتخابی نتائج کے مطابق ڈیوڈ ملی بینڈ نے ارکان پارلیمنٹ میں زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ایڈ ملی بینڈ کو ٹریڈ یونین کے ارکان اور لیبر پارٹی کے بنیادی ممبران میں زیادہ حمایت حاصل ہوئی ہے۔

لیبر لیڈر منتخب ہونے کے بعد ایڈ ملی بینڈ نے اپنے بڑے بھائی کو گلے لگایا۔

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ انکی ماں خوش ہیں کہ انتخابات ختم ہوئے اور نتائج آگئے۔ انکا کہنا تھا ’میری ماں میرے لیے خوش ہیں اور ڈیوڈ ملی بینڈ کے لیے انہیں افسوس ہے۔‘

ایڈ ملی بینڈ سن دو ہزار پانچ سے ڈونکاسٹر نارتھ کے حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے آ رہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن کے اس وقت مشیر رہ چکے ہیں جب وہ چانسلر کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے سترہ سال کی عمر میں لیبر پارٹی میں شمولیت حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں