یہودی آباد کار تحمل سے کام لیں: نتن یاہو

Image caption سو بستیوں میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے غرب اردن کے یہودی آباد کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کریں۔

غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر جزوی پابندی آج ختم ہو رہی ہے۔

علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کار پابندی کے خاتمے کے ساتھ ہی بستیوں کی تعمیر شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینی دیہاتوں سے گھری ہوئی یہودی بستیوں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پابندی کے خاتمے کے منتظر ہیں اور جیسے ہی پابندی ختم ہوگی وہ فوراً ہی بستیوں کی تعمیر کا کام شروع کر دیں گے۔

یہودی آباد کاروں کا کہنا ہے کہ وہ پابندی میں کسی بھی طرح کی توسیع قبول نہیں کریں گے۔

ایک اسرائیلی آبادکار ہانہ سٹین کا کہنا ہے کہ انہیں پابندی ختم ہونے کا شدت سے انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی آج ختم ہو رہی ہے کل صبح بلڈوزر اپنا کام شروع کر دیں گے اور بستیوں کی تعمیر ایک بار پھر شروع ہو جائے گی۔

ایک اور آبادکار کا کہنا تھا کہ یہ پابندی سرے سے ہی ایک غلط فیصلہ تھا اور یہ اسرائیلی پالیسی میں کمزوری کی علامت تھا۔

Image caption اسرائیل کو امن اور یہودی بستیوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا:محمود عباس

ادھر یہودی بستوں کی تعمیر پر عائد عارضی پابندی کے خاتمے کا وقت قریب آتے ہی امریکی اور اسرائیلی حکام نے اس معاملے پر فلسطینی حکام سے سمجھوتے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اتوار کو بستیوں کی تعمیر پر پابندی میں توسیع ممکن نہیں ہو سکے گی تاہم اس معاملے پر فلسطینیوں سے سمجھوتہ طے پا جانے کے پچاس فیصد امکانات ہیں۔

فلسطینی رہنما محمود عباس کہہ چکے ہیں کہ اگر اسرائیل اس پابندی میں توسیع کا فیصلہ نہیں کرتا تو وہ حال ہی میں بیس ماہ کے تعطل کے بعد شروع ہونے والے مشرقِ وسطٰی امن مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔

اس پابندی کی مدت اتوار کو ختم ہو رہی ہے اور امریکی صدر نے بھی اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بستیوں کی تعمیر پر عائد پابندی کی مدت میں اضافہ کرے کیونکہ اس سے حالات پر فرق پڑا ہے اور مذاکرات کا ماحول بہتر ہوا ہے۔

اسرائیل نے تاحال دس ماہ سے عائد اس پابندی میں توسیع پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔

نیویارک میں بی بی سی کی سفارتی امور کی نامہ نگار بریجٹ کینڈل سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود باراک کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل واپس جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی حکومت کو سمجھوتے پر آمادہ کر سکیں تاہم انہیں اپنی کامیابی کا یقین نہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر کسی سمجھوتے کے پچاس فیصد امکانات ہیں اور امن عمل کے آگے بڑھنے کے جتنے امکانات اس وقت ہیں پہلے کبھی نہیں تھے۔

سنیچر کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی رہنما محمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو امن اور یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی یقین دلایا تھا کہ فلسطین اسرائیل کے ساتھ ایک جامع اور منصفانہ امن معاہدے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ایک برس کے دوران اسرائیل سے امن معاہدے کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اسی اجلاس سے اپنے خطاب میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی خواہش کے تحت اسرائیل کے ٹکڑے کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے جب کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متنازعہ یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی برقرار رکھے۔

خیال رہے کہ انیس سو اڑسٹھ میں مشرقی یروشلم اور غرب اردن پر اسرائیل کے قبضے کے بعد اس مقبوضہ علاقے میں ایک سو کے قریب یہودی بستیاں قائم ہیں جن میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔ عالمی برادری ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے تاہم اسرائیل اس بات کو تسلیم نہیں کرتا۔

اسی بارے میں